1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان کی جنوبی ریاست میں فسادات، 24 افراد ہلاک

جنوبی سوڈان کی ریاست Jonglei کے علاقےNew Fangak میں گزشتہ پیرکو معمولی جھگڑے سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

default

دو افراد کے درمیان شروع ہونے والے اس جھگڑے نے قبائلی شکل اختیار کر لی تھی، جس میں Neur اور Dinka قبائل کے افراد نے ایک دوسرے پر حملے کئے۔ جنوبی سوڈان میں اس طرح کے قبائلی تصادم عام ہیں، جہاں عوام کو نو جنوری 2011 کو ایک استصواب رائے میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ خودمختاری چاہتے ہیں یا شمالی سوڈان کے ساتھ رہنا۔ استصواب رائے والے ہی دن اس بات پر بھی رائے شماری ہوگی کہ آیا تیل کی دولت سے مالامال مرکزی آبے ای کا علاقہ جنوبی سوڈان کا حصہ بنے گا یا نہیں۔

رائے دہندگان کے لئے لازمی ہے کہ یا تو ِان کا نسلی تعلق ان مقامی لوگوں سے ہو، جو پہلی جنوری 1956ء سے پہلے جنوبی سوڈان کے باشندے تھے یا پھر وہ اس سال کے بعد سے مسلسل یہاں کے رہائشی ہوں۔ رائے دہندگان کے لئے اٹھارہ سال کا ہونا بھی لازمی ہے جب کہ استصواب رائے کے قابل قبول ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کم ازکم ساٹھ فیصد رجسڑڈ رائے دہندگان اس میں حصہ لیں۔ اگر ساٹھ فیصد رائے دہندگان استصواب رائے میں حصہ نہیں لیتے، تو ساٹھ روز کے اندر دوبارہ رائے شماری ہوگی۔ آدھے سے زیادہ رائے دہندگان کو آزادی یا پھر شمالی سوڈان کے حق میں ووٹ دینا ہوگا۔

لیکن جنوبی سوڈان میں اس طرح کے قبائلی تصادموں نے کئی تجزیہ نگاروں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شمالی سوڈان سے علٰیحدگی کی صورت میں جنوب میں قبائلی اور لسانی تنازعات کا آتش فشاں پھٹ پڑے گا۔

جنوبی سوڈان میں لسانی تقسیم کی ایک مثال سن 2009ء میں دیکھنے میں آئی، جب مختلف قبائل کے مابین لڑائی میں 2,500 افراد لقمہء اجل بن گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، جو انتہائی منظم گروہ کی طرف سے بڑے دیہاتوں پر حملوں کے دوران ہلاک ہوئے۔ اس تصادم کی وجہ سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے فرار ہو کر دوسرے علاقوں میں پناہ لینا پڑی تھی۔

یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر جنوبی سوڈان نے اس رائے شماری میں شمالی سوڈان سے علٰیحدگی کے حق میں ووٹ دیا، تو خرطوم حکومت ایسے فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گی۔ تاہم کئی تجزیہ نگاروں کی تواقعات کے بر عکس سوڈان کے صدر عمرحسن البشیرنے حال ہی میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ رائے شماری کے نتائج کا احترام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نیشنل کانگریس پارٹی سوڈان کو متحد رکھنا چاہتی ہے لیکن اگر جنوبی سوڈان کے عوام نے آزادی کا فیصلہ کیا ، توان کی حکومت سب سے پہلے اس فیصلے کو تسلیم کرے گی۔

اس رائے شماری کے انعقاد کا فیصلہ سن 2005ء میں شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان ہونے والے ایک امن معاہدے میں کیا گیا تھا۔ اِس معاہدے کے تحت وہ طویل خانہ جنگی اختتام کو پہنچی، جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق بیس لاکھ کے قریب افراد ہلاک اور چالیس لاکھ بے گھر ہوئے تھے۔ برطانیہ سمیت کئی ممالک اس معاہدے پر عملدرآمد کے حق میں ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: امجد علی

DW.COM