1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان کی تقسیم سے قبل شدید جھڑپوں کا خدشہ

تازہ ترین سیٹیلائٹ تصاویر کے مطابق شمالی اور جنوبی سوڈان کے درمیان واقع سرحدی علاقے کردوفان Khordofan میں بڑی جھڑپوں کا امکان ہے جہاں کے ہزاروں شہری بد امنی کے سبب بے گھر ہوچکے ہیں۔

default

جنوبی سوڈان کے شہریوں نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے شمالی سوڈان سے علیٰحدگی کے حق میں رائے دے رکھی ہے۔ 9 جولائی کے روز جنوبی سوڈان کے نام سے ایک نئی ریاست کے قیام کا باضابطہ اعلان ہونا ہے۔ جنوبی سوڈان کی آزادی سے محض چند ہفتے قبل تناؤ میں اضافے کے سبب بڑی پیمانے پر خون خرابے کا خدشہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔

Satellite Sentinel نامی امریکی مانیٹیرنگ پراجیکٹ کے تحت حاصل کی گئی تازہ تصاویر کے مطابق شمالی سوڈان کی فوج 'سوڈان آرمڈ فورسز SAF نے کردوفان کے علاقے کادوگلی کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے اور وہ جنوبی سوڈان کی فوج 'سوڈانز پیپلز لبریشن آرمی SPLA کے ساتھ تنازعے میں گھری ہوئی ہے۔ ہالی وڈ فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار جورج کلونی کے قائم کردہ اس مانیٹرنگ پراجیکٹ کے مطابق 17 جولائی کو حاصل کی گئیں سیٹیلائٹ تصاویر میں ہزاروں افراد کو کادوگلی کے پاس پناہ کی تلاش میں دیکھا گیا ہے۔

رواں ماہ کی پانچ تاریخ سے فریقین کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے فائر بندی کی متعدد اپیلوں پر تاحال کوئی عملدرآمد نظر نہیں آرہا۔

Karte Sudan mit Khartum und Abyei

سوڈان تقسیم کے بعد

اکثریتی مسیحی آبادی والے جنوبی سوڈان میں کلیسائی رہنماوں کا دعویٰ ہے کہ شمالی حصے کی فوج نسل کشی کی مرتکب ہورہی ہے۔ ان کے بقول اس مہم میں جنوبی کردوفان میں مقامی 'نودا' نسل کے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خرطوم حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ 'نودا' نسل سے تعلق رکھنے والے سوڈانی باشندوں نے 1983 تا 2005ء کی خانہ جنگی کے دوان خرطوم حکومت کے خلاف جنوبی حصے کی سوڈانز پیپلز لبریشن آرمی کا ساتھ دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ SAF کے اہلکار گھر گھر تلاشی کے دوران SPLA سے ہمدردی رکھنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور گلی محلوں میں جگہ جگہ لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازعے کے سبب قریب 60 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں جن میں سے کم از کم 30 ہزار بچے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM