1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان پر ڈارفور میں جنگی جرائم کے الزامات

سوڈان کی حکومت نے ڈارفور کے بحران کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی کمیشن کی رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ وہ بے بنیاد ہے اور کمیشن ارکان نے خرطوم حکومت کے خلاف واضع امتیاز برتا ہے۔

سوڈان کی حکومت پر ڈارفور میں نسل کشی، آبرو ریزی، اغوا اور قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ سطحی کمیشن کی سربراہ اور نوبیل امن یافتہ Jody Williams نے سوڈان کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا ہے کہ ان کے کمیشن نے اس معاملے میں امتیازی رویہ اپنایا ہے۔ Williams کے مطابق ان کی نظر میں خرطوم حکومت اپنا اعتبار کھو چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی متعدد کوششیں بھی ڈارفور کے بحران کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ Williams نے یہ بھی کہا کہ ڈارفور میں جاری بحران پر عالمی برادری نے جس ناکافی اور غیر مﺅثر رد عمل کا اظہار کیا ہے اس پر اسے اپنے سر شرم سے جھکا لینے چاہیئں۔

اب تک وہاں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور 25 لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ جمعے کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کی جائے گی۔ ڈارفور کمیٹی کی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر ملکی اور کثیر القومی کمپنیوں کی فہرست تیار کرے جو اس تنازعے سے کاروباری فائدہ اُٹھا رہی ہیں اور جس سے وہاں انسانی حقوق کی صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔ بظاہر یہ اشارہ اسلحہ فراہم کرنے والی فرموں کی جانب کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر نے دھمکی دی ہے کہ اگر سوڈان نے ڈارفور میں افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کی مشترکہ تعیناتی کی اجازت دینے کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی تو وہ خرطوم حکومت کے خلاف عائد پابندیوں میں توسیع کی قرارداد پیش کریں گے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے قدم کے طور پر ڈارفور میں نسل کشی کے زمہ دار سوڈان کے سرکاری اہلکاروں کی فہرست میں شامل افراد کی تعداد میں اضافہ کر کے ان کے خلاف سفری پابندیاں اور ان کے اثاثے منجمد کئے جا سکتے ہیں۔

ڈارفور میں نافذ اسلحے کی پابندی کو پورے سوڈان تک پھیلانے اور ڈارفور پر سے تمام پروازوں کو ممنوعہ قرار دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اسی معاملے پر امریکہ نے بھی مزید سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب فروری سن 2003 میں ڈارفور کے سیاہ فام اقلیتی قبائلوں نے قدرتی وسائل میں حصہ داری کا مطالبہ کرتے ہوئے بغاوت شروع کر دی۔ جواب میں سرکاری افواج نے علاقے کے عرب جنجوید ملیشیا گروپوں کے ساتھ مل کر بغاوت کے خلاف غیر انسانی طریقے سے کریک ڈاﺅن شروع کر دیا۔ انسانی حقوق کونسل کے مطابق خرطوم حکومت کی ڈارفور میں کارروائیاں جنگی جرائم کے مترادف ہیں۔ تنازعے کے خاتمے کے لئے متعین افریقی یونین فورس وسائل کی کمی کے باعث اب تک تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔