1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوڈان میں علیٰحدہ وطن کے لئے ریفرنڈم

سوڈان کے جنوبی خطے میں ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا آغاز اتوار سے ہو چکا ہے، جو ہفتہ بھر جاری رہے گا۔ اگر عوام کی زیادہ تعداد نے ’ہاں‘ کہا تو دنیا کا 193واں ملک وجود میں آ جائے گا۔

default

پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹر قطار میں کھڑے ہیں

جنوبی سوڈان کے شہریوں کو نصف صدی پر محیط تباہ کن تنازعات کے بعد اس حوالے سے اپنی رائے کے اظہار کا موقع مل رہا ہے۔ اس خطے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد تقریباﹰ چالیس لاکھ ہے۔

UN-Generalsekretär Kofi Annan auf der Insel Zypern

اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی سوڈان میں موجود ہیں

ریفرنڈم کے لئے ووٹنگ کا عمل ہفتہ کو عالمی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہوا اور سہ پہر دو بجے تک جاری رہا۔ تاہم ووٹنگ سات دِن جاری رہے گی اور اتوار اس کا پہلا دِن تھا۔

یہ تاریخی ریفرنڈم 2005ء میں سوڈان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں افریقہ کے طویل ترین تنازعے کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔

ریفرنڈم کے موقع پر سوڈان میں اہم عالمی شخصیتیں موجود ہیں، جن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر، اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور ہالی وُڈ اسٹار جارج کلونی شامل ہیں۔

امریکی مندوبین کی سوڈان میں موجودگی کا مقصد ریفرنڈم کو معاہدے کے مطابق یقینی بنانا بتایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سوڈان کے لئے امریکہ کے خصوصی مندوب Scott Gration ہی خطے کے دو درجن دورے کر چکے ہیں۔

جنوبی خطوں میں ہفتہ جشن کا دِن تھا۔ خبررساں اداروں کے مطابق وہاں عوام کا جوش قابل دید تھا، جو شدت سے ریفرنڈم کے منتظر دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم مخالف گروپوں کے درمیان جھڑپیں اس جشن پر بھی حاوی رہیں، جو شمالی اور جنوبی خطے کے سرحدی علاقے میں ہوئیں۔

دوسری جانب جنوبی خطے کے رہنما سلواکیر نے اپنے شہریوں کے نام پیغام میں کہا کہ شمال کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ گزربسر کے لئے اب کوئی متبادل باقی نہیں رہا۔ انہوں نے ریفرنڈم سے ایک روز قبل اپنے پیغام میں کہا، ’ساتھیو، اب محض چند گھنٹے باقی ہیں، جس کے بعد ہمیں اپنی زندگیوں کا سب سے اہم فیصلہ کرنا ہے۔ اب ہم جنگ کی طرف نہیں لوٹ سکتے۔‘

Symbolbild politische Spaltung im Sudan vor der Präsidentschaftswahl

سوڈانی صدر شفاف انتخابات پر نتائج تسلیم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں

انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم ان کی کوششوں کا انجام نہیں ہے بلکہ ایک نئے دَور کا آغاز ہے۔

سوڈان کو 1956ء میں برطانیہ سے آزادی ملی تھی۔ تاہم تب سے ہی اس کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان مذہبی، نسلی، نظریاتی اور وسائل کی تقسیم پر تنازعات جاری ہیں۔ شمال میں عرب مسلمان اکثریت میں ہیں جبکہ جنوب میں افریقی مسیحی۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر کہہ چکے ہیں کہ ریفرنڈم آزادانہ اور شفاف ہوا تو وہ نتائج تسلیم کر لیں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس