1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان میں اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا

چوبیس سال بعد افریقی ملک سوڈان میں پہلے کثیر الجماعتی انتخابات کا نقشہ بدلتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر کے حکمران جماعت کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔

default

صدارتی امیدوار یاسر ارمان پہلے ہی انتخابی مہم ختم کر چکے ہیں

سوڈان میں اِس ماہ کی گیارہ سے تیرہ تاریخ کے دوران صدارتی، پارلیمانی اور مقامی کونسلوں کے انتخابات منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اِن کی مانیٹرنگ کے لئے غیر ملکی مبصرین بھی سوڈان پہنچ چکے ہیں۔ اِن مبصرین میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے کارٹر سینٹر کے کارکن خرطوم اور دوسرے شہروں میں صورت حال کی جانکاری کے لئے سرگرم ہیں۔

ابھی جمعرات ہی کو برطانوی وزارت خارجہ نے امریکہ اور ناروے کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی عمل میں شرکت کے لئے حکومت اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ اعلان میں کہا گیا تھا کہ بات چیت کے ذریعے حل طلب معاملات کو مثبت سمت دکھائی جا سکتی ہے۔

گزشتہ روز سوڈان کی اپوزیشن جماعتوں نے دارالحکومت خرطوم میں ایک اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ انتخابی عمل میں شامل نہیں ہوں گی۔ بائیکاٹ کے اِس فیصلے میں اُن کا یقین شامل ہے کہ حکمران جماعت انتخابات کے دوران دھاندلی ضرور کرے گی۔ اِس کے علاوہ یہ جماعتیں انتخابات کو ملتوی کروانے کی بھی خواہشمند ہیں۔

Wahlkampf in Sudan

سوڈان کے صدر عمر البشیر

اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان تعطل کے باعث بدھ کو جنوبی سوڈان کی مقبول جماعت پیپلز لبریشن موومنٹ نے اپنے صدارتی امیدوار یاسر ارمان کو انتخابی مہم ختم کرنے کی ہدایت کرتےہوئے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کئی غیر ملکی اداروں کے نمائندے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ سردست الیکشن کا التوا ناگزیز ہے۔

سوڈان کے انتخابی عمل پر تنقید کرنے والوں میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نمایاں ہیں۔ اِن کے مطابق ووٹروں کی رجسٹریشن کے دوران بوگس نام اور غلط کوائف کا اندراج کیا جا رہا ہے۔ اِن کے مطابق انتخابات کے شفاف اور قابل اعتماد ہونے کا امکان کم ہے۔

دوسری جانب سوڈان کے صدر عمر البشیر نے واضح کیا ہے کہ ملک میں انتخابات کا انعقاد قومی ذمہ داری ہے اور یہ ہر ممکن طور پر مکمل کی جائے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM