1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان میں انسانی حقوق کی پامالی، اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس نے بارہ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں سوڈان کے جنوبی علاقے کوردوفان میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں، جنہیں خرطوم حکومت نے ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے رَد کر دیا ہے۔

سوڈان کے جنوب میں پرتشدد کارروائیاں

سوڈان کے جنوب میں تشدد اور مظالم

اس رپورٹ میں تشدد اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے تقریباً تیس واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ان واقعات کی تحقیقات کیے جانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ان واقعات کے درست ثابت ہونے کی صورت میں انہیں ممکنہ طور پر جنگی جرائم بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جولائی میں جنوبی سوڈان باقی سوڈان سے الگ ہو کر ایک آزاد اور خود مختار مملکت بن گیا تھا، جس کے نتیجے میں سوڈان کے تیل کے بھی زیادہ تر ذخائر جنوبی سوڈان کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔ سوڈان کے معدنی تیل کے باقی ماندہ زیادہ تر ذخائر بھی ملک کے جنوبی علاقوں مثلاً نو آزاد مملکت جنوبی سوڈان سے ملحقہ ریاست کوردوفان میں ہیں، جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تناؤ اور کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

جون کے اوائل میں سوڈانی فوج اور ملک کی جنوبی ریاست کوردوفان کے زیادہ تر نُوبا نسل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ تب ہزاروں شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ نے 22 جون کو اپنے ایک بیان میں گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے والے ان شہریوں کی تعداد 73 ہزار بتائی تھی۔

جنوبی سوڈان کے باقی سوڈان سے الگ ہو کر ایک آزاد اور خود مختار مملکت بن جانے کے نتیجے میں سوڈان کے تیل کے بھی زیادہ تر ذخائر جنوبی سوڈان کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے

جنوبی سوڈان کے باقی سوڈان سے الگ ہو کر ایک آزاد اور خود مختار مملکت بن جانے کے نتیجے میں سوڈان کے تیل کے بھی زیادہ تر ذخائر جنوبی سوڈان کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے

تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوردوفان کے ریاستی دارالحکومت کادوگلی اور نُوبا آبادی والے نواحی پہاڑوں میں انسانی حقوق کی سخت پامالی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پُرتشدد واقعات میں ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی گرفتاریاں، اغوا، شہریوں پر حملے، گھروں کی لُوٹ مار اور اُن کی گھر بدری شامل ہیں۔ رپورٹ میں ایک عینی شاہد کے حوالے سے ایک اجتماعی قبر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر سوڈانی فوج نے بہت سی لاشیں دفنائیں۔

رپورٹ میں ان میں سے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری سوڈانی فوج اور اُس کی حلیف ملیشیاؤں پر ڈالی گئی ہے۔ دوسری طرف رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوڈانی فوج کی حریف ملیشیا ’سوڈان پیپلز لبریشن آرمی نارتھ‘ (SPLA-N) نے ریاستی دارالحکومت کادوگلی کے کچھ حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔

سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی SUNA کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں خارجہ امور کی وزارت کے ایک ترجمان نے اقوام متحدہ کی جاری کردہ اس رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ اور ’معاندانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بغیر کسی طرح کے شواہد کے لگائے گئے ان الزامات کا مقصد حکومت سوڈان کے خلاف جاری لڑائی اور بغاوت کی پشت پناہی کرنا ہے اور یہ کہ یہ الزامات کوردوفان کی حقیقی صورتحال سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM