1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوڈان: 'قابل اعتراض ڈریس' پہننے والی خاتون صحافی کی رہائی

سوڈان میں سرعام ’’قابل اعتراض ڈریس‘‘ پہننے کے الزام میں گرفتار کی جانے والی ایک خاتون صحافی کو ایک دن بعد ہی جیل سے رہائی ملی ہے۔

default

لبنیٰ احمد حسین

لبنیٰ احمد حسین نامی اس تیس سالہ صحافی پر الزام تھا کہ اس نے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹراوٴزر پہنا تھا۔

جرمانہ ادا نہ کرنے کے بعد پیر کے روز خرطوم کی ایک عدالت نے لبنیٰ حسین کوایک ماہ قید کی سزا سنائی۔ لبنیٰ حسین نے دو سو امریکی ڈالر یا 500 سوڈانی پاؤنڈ کا جرمانہ ادا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ انہوں نے ٹراوٴزر پہن کر ملکی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ حسین کے نزدیک اس کیس کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔

لبنیٰ احمد حسین کی رہائی حاصل کرنے کے لئے ’سوڈانی یونین آف جرنلٹس‘ کو جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔ سوڈانی صحافیوں کی یونین نے بتایا کہ لبنیٰ حسین کی رہائی، عدالت میں دو سو امریکی ڈالر جرمانے کے طور پر جمع کرانے کے بعد ہی ممکن ہوئی ہے۔

UN Flagge hinter Stacheldraht in Bagdad

خاتون صحافی کی گرفتاری پر اقوام متحدہ نے بھی خرطوم حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

اس متنازعہ کیس کی شروعات کب اور کہاں سے ہوئی؟

اس سال جون میں لبنیٰ حسین سمیت بارہ سوڈانی خواتین ایک ریستوران میں تھیں۔ ان سب نے ٹراوٴزر پہن رکھے تھے، جس کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ سوڈان میں رائج اسلامی قانون کے مطابق خواتین ’’غیر شائستہ ڈریس‘‘ نہیں پہن سکتیں اور وہاں ٹراوٴزر یا پتلون کو قابل اعتراض ڈریس تصور کیا جاتا ہے۔ ملکی قانون کے مطابق ان خواتین کو چالیس کوڑوں کی سزا ملنی تھی۔ صحافی لبنیٰ کے مطابق ریستوران میں بیٹھی بارہ خواتین میں سے دس نے فوری طور پر قصور وار ہونے کا اعتراف کیا اور انہیں دس دس کوڑے مارے گئے۔ لبنیٰ حسین کا مزید کہنا تھا کہ جن خواتین کو کوڑوں کی سزا ملی، ان میں سے بیشتر کا تعلق مسیحی مذہب سے تھا۔

بین الاقوامی تنقید:

حسین اور دیگر خواتین کے خلاف کیس کے حوالے سے عالمی سطح پر زبردست تنقید کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے حقوق انسانی نے سوڈان میں ٹراوٴزر پہننے والی خواتین کوکوڑوں کی سزا سنانے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سول اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

صحافی لبنیٰ حسین ماضی میں اقوام متحدہ کے لئے بھی کام کرچکی ہیں تاہم انہوں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ سوڈانی خاتون صحافی کے مقدمے کے دوران عدالت کے باہر درجنوں افراد جمع ہوئے تھے، جن میں سے بعض لبنیٰ حسین کے موقف کے حق میں اور بعض اس کے خلاف تھے۔

رپورٹ: گوہرنذیر

ادارت: کشور مصطفیٰ