1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوڈان: خاتون کو پتلون پہننے پر کوڑوں کی سزا کا امکان

منگل کے روز افریقی ملک سوڈان میں ایک خاتون کو برسرِ عام پتلون پہننے کے الزام میں عدالت کی جانب سے متوقع کوڑوں کی سزا کے خلاف درجنوں خواتین نے مظاہرہ کیا۔

default

لبنیٰ حسین پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں

درجنوں خواتین نے خرطوم کی عدالت کے سامنے مظاہرہ کیا۔ سوڈانی خاتون پر الزام ثابت ہونے کی صورت میں ان کو چالیس کوڑوں تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ لبنیٰ حسین کیس عالمی توجّہ کا مرکز بن گیا ہے۔

لبنیٰ حسین نامی خاتون کو دیگر بارہ خواتین کے ہمراہ جولائی کی ابتداء میں ایک پارٹی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان خواتین پر الزام تھا کہ انہوں نے ’نامناسب‘ لباس پہنا ہوا ہے۔

Große Moschee in Khartoum, Sudan

سوڈان میں سخت اسلامی قوانین نافذ ہیں

لبنیٰ حسین پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں اور وہ خرطوم میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پریس سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ لبنیٰ حسین کا کیس اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے اپنی ان ’قابلِ اعتراض‘ تصاویر کی تشہیر کی، جس میں انہوں نے فقط سبز رنگ کی پتلون پہنی ہوئی تھی۔ لبنیٰ کے وکیل کے مطابق لبنیٰ کا موقف ہے کہ جو لباس انہوں نے پہنا ہوا تھا، وہ ’قابلِ اعتراض‘ نہیں ہے۔ ان کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لبنیٰ کی متوقع سزا کے خلاف ملک کی آئینی عدالت میں اپیل بھی کرسکتے ہیں۔

منگل کو ہونے والے مظاہرے میں خواتین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ ’سوڈان کو قرونِ وسطیٰ کے دور میں نہیں جانے دیں گی‘۔ بعض خواتین نے لبنیٰ حسین کی حمایت میں پتلونیں پہنی ہوئی تھیں۔ زیادہ تر خواتین کا تعلق خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سے تھا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ سوڈان میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سوڈانی قوانین کے برعکس ملک کے مسلم اکثریتی شمال اور عیسائی اکثریتی جنوب میں واضح ثقافتی تضاد پایا جاتا ہے۔

سوڈان میں حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا موقف ہے کہ سوڈانی قانون ’قابلِ اعتراض لباس‘ کی واضح تشریح نہیں کرتا ہے اور اس بات کا فیصلہ اکثر اوقات پولیس اہلکار انفرادی سطح پر کرتے ہیں کہ کون سا لباس ’قابلِ اعتراض‘ ہے اور کون سا نہیں۔