1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان: جنگی ملزمان کی گرفتاری کی کوششوں میں تیزی

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سوڈان میں جنگی جرائم میں ملوث دو ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں تیز تر کر دی ہیں۔

default

اس ضمن میں جلد ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے باضابطہ طور پر مدد کی درخواست کی جائے گی۔ سوڈان کے ایک سابق صوبائی گورنر احمد ہارون اور ایک ملیشیا لیڈر علی قشعیب کی گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ 2007ء میں جاری کئے گئے تھے۔

ان افراد پر دارفور کے بحران زدہ خطے میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کے چیف پروسیکیوٹر لوئس مورینو اوکامپو کے بقول آئندہ پیر کا دن اس درخواست کے لئے خاصا مناسب دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے بقول: ’’ ہمیں اب جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ سلامتی کونسل ان افراد کی گرفتاری کو یقینی بنائے۔‘‘

مورینو نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کے سامنے ICC کی اس تازہ رپورٹ سے متعلق بیان دیں گے، جس کے مطابق خرطوم حکومت ان دونوں ملزمان کو مبینہ طور پر پناہ دئے ہوئے ہے۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ احمد ہارون کہاں ہے، وہ چھپ رہا ہے۔‘‘ خیال رہے کہ احمد ہارون جنوبی صوبے خوردوپان کے گورنر رہے ہیں۔ بعض مغربی سفارتکارں کے مطابق چونکہ اس صوبے میں تیل کے ذخائر سے مالا مال ابھیائی کا علاقہ بھی شامل ہے، جو ملک کے جنوب اور شمال کو تقسیم کرتا ہے، اسی لئے یہاں ہارون کی موجودگی باعث تشیوش ہے۔ مورینو نے کہا: ’’احمد ہارون کا خوردوپان میں ماضی عام شہریوں پر حملوں سے عبارت ہے۔‘‘

Sudan Massengrab im Westen von Darfur, Sudan

دارفور میں سیاسی اور لسانی بنیادوں پر جاری جھڑپوں نے گزشتہ سات سال میں تین لاکھ افراد کی جان لے لی اور لاکھوں انسانوں کو دربدر کر دیا

یاد رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کے خلاف بھی دارفور میں جنگی جرائم کے الزام پاداش میں تیسری بار الزامات عائد کئے تھے۔ مورینو کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے سامنے اپنے بیان میں وہ ’’سوڈانی صدر کو بھی نہیں بخشیں گے۔‘‘

دوسری طرف اقوام متحدہ میں سوڈان کے مندوب عبدالمحمود عبدالحلیم لوئس مورینو سے ہم خیال نہیں ہیں۔ ان کے بقول مورینو کی سیاسی خواہشات سے بھرپور مبینہ طور پر تخریبی سوچ سے بہتر ہے کہ سلامتی کونسل سے دارفور میں قیام امن کے لئے دوحا میں جاری کوششوں کے لئے معاونت حاصل کی جائے۔

دو دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد اگرچہ جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان 2005ء میں امن معاہدہ طے پاگیا تھا تاہم پھر بھی ملک کے دونوں حصوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ یہ تنازعہ دارفور میں بدامنی سے مختلف مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دارفور میں سیاسی اور لسانی بنیادوں پر جاری جھڑپوں نے گزشتہ سات سال میں تین لاکھ افراد کی جان لے لی اور لاکھوں انسانوں کو دربدر کر دیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM