1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوڈان الیکشن: مبصرین کی تنقید، اپوزیشن امیدوار خفا

افریقی ملک سوڈان میں گزشتہ 24 سالوں میں پہلے کثیر الجماعتی انتخابات کا انعقاد مکمل ہونے کے بعد اب نتائج کا انتظار ہے۔ انتخابی عمل پر غیر ملکی مبصرین کی آراء سامنے آنا شروع ہو گئیں ہیں جو تنقید سے بھری ہیں۔

default

سابق امریکی صدر کارٹر سوڈانی صدر کے ساتھ الیکشن سے قبل

سوڈان میں اپوزیشن کے امیدوار اور مذہبی مفکر حسن ترابی نے انتخابی عمل کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ترابی کے مطابق انتخابات میں انتہائی گھناؤنے انداز میں دھوکہ دہی کا عمل جاری رکھا گیا تھا۔ اسلامی پاپولر کانگریس پارٹی کے لیڈر نے انتخابی عمل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ترابی صدارتی امیدوار بھی تھے۔ ایک دوسری اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ یونینسٹ پارٹی نے بھی انتخابی عمل کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ اس پارٹی کے حاتم السر بھی سوڈان صدر کے مقابلے پر صدارتی امیدوار تھے۔

Sudan Wahlen 2010

بیلٹ بکس سے ڈالے گئے ووٹ نکالے جا رہے ہیں

صدارتی، پارلیمانی اور علاقائی الیکشن کے ابتدائی نتائج منگل سے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ناقدین کو یقین ہے کہ عمر البشیر بطور صدر کامیاب قرار دے دیئے جائیں گے اور اُن کی جماعت، نیشنل کانگریس پارٹی کو بھی بھاری کامیابی حاصل ہو گی۔

سوڈان میں تاریخی خیال کئے جانے انتخابات کی نگرانی کے لئے غیر ملکی مبصرین بھی خرطوم اور دوسرے شہروں میں موجود تھے۔ اِن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر بھی موجود تھے۔ اُن کے ادارے کارٹر سنٹر کے بے شمار کارکن الیکشن کو مانیٹر کر رہے تھے۔ انتخابات کے بعد سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے ادارے کی جانب سے ایک بیان سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں میڈیا کے لئے جاری کیا گیا۔ اس بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ امر یقینی تھا کہ اِن انتخابات میں بین الاقوامی معیار کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوگا اور بہت سارے مقامات پر خامیوں کو محسوس کیا گیا۔ کارٹر سنٹر کے بیان

Sudan Wahlen Omar al-Bashir

سوڈانی صدر اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے

میں یہ بھی بتایا گیا کہ بیلٹ بکس کو سربمہر کرنے کے مسئلے کے ساتھ ووٹروں کو لگائی جانے والی روشنائی بھی معیاری نہیں تھی۔ مجموعی طور پر انتخابی عمل ناقابل اعتماد اور شفافیت سے عاری تھا۔ اِس کے باوجود جمی کارٹر کے خیال میں عالمی اقوام کو اس الیکشن کے نتائج تسلیم کرنا ہی ہوں گے کیونکہ یہ سوڈان میں جمہوریت کی جانب اٹھنے والا ایک اہم قدم ہے۔

سوڈانی انتخابات پر نگاہ رکھنے والے یورپی یونین کے وفد کے سربراہ ویرانیکے ڈی کائزر کے بھی خیالات کارٹر سنٹر کے بیان جیسے ہیں۔ کائزر کا بھی یہی خیال ہے کہ انتخابات میں عالمی معیار کی کوئی چیز نہیں تھی۔ یورپی یونین کے وفد میں ایک سو تیس افراد شامل تھے۔ یہ مبصرین پچیس یورپی ملکوں سے منتخب کئے گئے تھے۔ یورپی یونین نے انتخابات سے اپوزیشن کی بعض اہم جماعتوں کے بائیکاٹ کا بھی نوٹس لیا اور اُن کی عدم شرکت کی وجہ سے حکمران نیشنل کانگریس پارٹی کو الیکشن میں فائدہ پہنچا۔ یورپی یونین کے بیان میں انتخابی عمل میں نقل و حمل کے ذرائع کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ یونین کے مبصرین نے حکام کی جانبداری کو بھی واضح طور پرمحسوس کیا۔ کارٹر سنٹر کی طرح یونین نے بھی ان الیکشن کو سوڈان کے لئے انتہائی اہم قرار دیا اور ان کے انعقاد کو جمہوریت کی پہلی منزل قرار دیا۔ یورپی یونین کی وفد کی سربراہ کا بھی خیال تھا کہ بین الاقوامی برادری تمام تر خامیوں کے باوجود اِس الیکشن کے نتائج کو تسلیم کر لے گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM