1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوڈانی صدر البشیر کے وارنٹ گرفتاری

بین الاقوامی فوجداری نے آج دی ہیگ میں سوڈان کے صدر عمرحسن البشیر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ ان پر دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

default

سوڈانی صدر کے قوم سے خطاب کی ایک تصویر

اس عدالت نے حسن البشیر پر نسل کشی کا الزام نہیں لگایا۔ دی ہیگ میں آئی سی سی نامی اس عدالت کی خاتون ترجمان لارنس بلیئرون نے بتایا کہ عمر البشیر پر دانستہ طور پر دارفور کی آبادی کے ایک اہم حصے پر حملوں کی ہدایات جاری کرنے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں قتل و غارت اور جنسی زیادتیوں جیسے جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

لارنس بلیئرون نے کہا کہ دارفور میں پرتشدد کارروائیاں سوڈانی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی منصوبے کا نتیجہ تھیں لیکن نسل کشی کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈانی حکومت سے صدر بشیر کی گرفتاری میں تعاون کرنے کی درخواست کی جائے گی: " آئی سی سی کی جانب سے کسی سربراہ مملکت کی گرفتاری کے لئے جاری کیا گیا یہ پہلا وارنٹ ہے۔"

Flüchtlinge im Sudan warten auf Essensausgabe

لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد خانہ جنبی کی وجہ سے بے گھر ہو چکی ہے

سوڈانی صدر عمرحسن البشیر نے اپنے خلاف ان الزامات سے انکار کیا ہے جبکہ ان کے ایک معاون مصطفیٰ اسمعٰیل نے ایک سوڈانی ٹی وی کو بتایا کہ اس فیصلے سے خرطوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اُدھر برطانیہ میں تعینات سوڈانی سفیر عمر صدیق نے کہا ہے کہ خرطوم حکومت اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے: "سوڈانی حکومت ان الزامات کو نہیں مانتی اور ہمیں یقین ہے کہ سوڈان آئی سی سی کی عمل داری میں نہیں آتا۔ "

آئی سی سی کے اس فیصلے کے بعد سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں صدر حسن البشیر کی حمایت میں مظاہرے شروع ہوئے جبکہ دارالحکومت میں پہلے سے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی دستے موجود ہیں۔

John Garang

خرطوم میں فوج کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

سوڈانی صدر کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جانے کے لئے آئی سی سی کے پروسکیوٹر لوئیس مورینو نے درخواست جولائی 2008 میں کی تھی۔ اس عدالت نے 2007 میں بھی ایک سوڈانی وزیر احمد ہارون اور ملیشیا رہنما علی عبدالرحمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ تاہم سوڈانی حکومت نے ان دونوں کو اس عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق دارفور میں چھ سالہ تنازعے میں اب تک تقریبا تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر بھی ہوئے۔

DW.COM