سوچی کی اوباما سے ملاقات، میانمار کے لیے مراعات | حالات حاضرہ | DW | 14.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوچی کی اوباما سے ملاقات، میانمار کے لیے مراعات

میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی نے آج واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی ہے۔ میانمار میں گزشتہ برس سوچی کی سیاسی جماعت کی کامیابی کے بعد امریکا کا یہ ان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

سوچی بطور اپوزیشن رہنما کئی دہائیوں تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکی ہیں تاہم اب وہ اپوزیشن رہنما نہیں رہیں بلکہ ان کی سیاسی جماعت نیشنل لِیگ فار ڈیموکریسی رواں برس مارچ سے میانمار میں بر سر اقتدار ہے۔ ان حالات میں امریکی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ میانمار پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے جائے۔ امریکی صدر باراک اوباما میانمار کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خواہاں ہیں۔ میانمار پر فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد واشنگٹن نے اس ملک کے خلاف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق آنگ سان سوچی سے ملاقات کے موقع پر امریکی صدر باراک اوباما نے میانمار کے ساتھ بطور غریب ترین ملک کے تجارتی ترجیحات بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق تجارتی مراعات کا یہ فیصلہ دراصل میانمار کی جمہوریت کی طرف واپسی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے میانمار کے ساتھ بطور غریب ترین ملک کے تجارتی ترجیحات بحال کرنے کا حکم دیا ہے

امریکی صدر باراک اوباما نے میانمار کے ساتھ بطور غریب ترین ملک کے تجارتی ترجیحات بحال کرنے کا حکم دیا ہے

امریکی تجارتی قانون کے مطابق میانمار کو بطور ’بینیفشری ڈویلپنگ کنٹری‘ حاصل ترجیحی سلوک 1989ء میں اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب وہاں فوجی آمریت قائم تھی۔ امریکی صدر کی طرف سے جاری کردہ حکم 13 نومبر سے نافذ العمل ہو گا۔ اس قانون کے تحت غریب اور ترقی پذیر ممالک سے آنے والے تجارتی سامان پر ڈیوٹی میں چھوٹ دی جاتی ہے۔

میانمار کی سابق اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کو 1991ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ یہ انعام انہیں میانمار میں فوجی آمریت کے خلاف طویل جدوجہد پر دیا گیا تھا۔ میانمار میں کئی دہائیوں کے بعد گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔