1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوچی کا رہائی کے بعد پہلا سیاسی خطاب

میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آؤنگ سان سوچی گزشتہ کئی برسوں کی قید اور نظر بندی کے بعد آج اتوار کے روز پہلی مرتبہ اپنے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کریں گی۔

default

آؤنگ سان سوچی کے ساتھ میانمار کے عوام کی ایک بڑی تعداد کی امیدیں وابستہ ہیں اور سوچی کو ملک میں جمہوریت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ میانمار میں گزشتہ پچاس برس کی فوجی آمریت اور سوچی کی برس ہا برس کی قید کے بعد اب اس ملک کے عوام میں یہ امید دیکھی جا رہی ہے کہ شاید وہ اب جمہوریت اور بہتر مستقبل کی منزل سے زیادہ دور نہیں ہیں۔

Dossierbild 3 Aung San Suu Kyi

جمہوریت کے حامی سوچی کی رہائی کا جشن مناتے ہوئے

نوبل امن انعام یافتہ آؤنگ سان سوچی کی سات سالہ نظربندی کے خاتمے کے ہفتہ کے روز کئے گئے اعلان کے بعد ہزاروں افراد ان کے گھر کے باہر جمع ہو گئے تھے۔ اس موقع پر سوچی نے فوجی آمریت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور عوام کے بہت بڑے ہجوم سے کہا: ’’مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مجھے خوش آمدید کہا ہے اور میرا ساتھ دیا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے جب آپ کو باہر نکلنا ہو گا، اس وقت کوئی پیچھے نہ رہے۔‘‘

65 سالہ سوچی نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ اتوار کی دوپہر کو ان کی جماعت کے ہیڈکوارٹرز پر جمع ہوں، جہاں وہ ان سے براہ راست خطاب کریں گی۔ گزشتہ سات برسوں میں سوچی کا یہ پہلا عوامی سیاسی خطاب ہو گا۔

اپنی رہائی کے بعد اس مختصر بیان میں سوچی نے گو کہ زیادہ گفتگو نہیں کی تاہم سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ سوچی کی کوشش یہی ہو گی کہ منقسم اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے تاکہ عوام کی ان سے وابستہ توقعات کو کسی طرح پورا کیا جا سکے۔ سیاسی ماہرین ان خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس قدر بلند توقعات کا بوجھ سوچی کے لئے پریشانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

Flash-Galerie Aung San Suu Kyi

سوچی گزشتہ سات برسوں میں پہلی مرتبہ اپنے حامیوں سے خطاب کرنے والی ہیں

میانمار میں گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ گزشتہ ہفتے انتخابات منعقد ہوئے تھے، تاہم ان انتخابات کو عالمی برادری کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ عالمی رہنماؤں کا خیال ہے کہ سخت ترین ضوابط کے باعث جمہوری قوتوں کو انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے نہ صرف روکا گیا بلکہ فوجی آمریت کا ساتھ دینے والی جماعتوں کی کامیابی کے لئے حکومتی مشینری نے بھی پوری طرح معاونت کی اور انتخابات دراصل فوجی حکومت کے تسلسل ہی کا حصہ تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس