1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سوچی سے امن انعام واپس لیا جائے‘

کئی ہزار افراد نے ایک ایسی آن لائن پیٹیشن پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے ذریعے نوبل انعام کی کمیٹی سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے نوبل امن انعام واپس لیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق  ناروے کی نوبل کمیٹی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی امن انعام موصول کرنے والے شخص سے انعام واپس نہیں لیتے کیوں کہ یہ ایوارڈ اس کام کی بنیاد پر دیاجاتا ہے جو کہ انعام حاصل کرنےکی بنیاد بنا ہو۔

ویب سائٹ ’چینج ڈاٹ او آر جی‘ کی اس پیٹیشن پر اب تک تین لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر میانمار کی راکھین ریاست میں روہنگیا آبادی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پیٹیشن میں لکھا گیا ہے، ’’میانمار کی رہنما نے اپنے ملک میں انسانیت کے خلاف ہونے والے مظالم کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘

سوچی کو سن 1991 میں امن انعام دیا گیا تھا جب وہ  ملکی فوج کی جانب سے نظر بند تھیں۔ سن 2010 میں سوچی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے وہ اپنی سیاسی جماعت کی سربراہی کر رہی ہیں۔ سوچی کی سیاسی جماعت نے میانمار کے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن سوچی کی حکومت کو  میانمار کی فوج کی جانب سے  روہنگیا آبادی  کے ساتھ کی جانے والی مبینہ زیادتی پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

بے وطن روہنگیا مسلمان کہاں جائیں؟

اقوام متحد کے مطابق اب تک ایک لاکھ چونسٹھ ہزار روہنگیا میانمار کی راکھین ریاست سے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ اس ہفتے سوچی نے الزام عائد کیا کہ روہنگیا کے حوالے سے بے بنیاد معلومات پھیلائی جا رہی ہیں جو کہ دہشت گردوں کے عزائم کو تقویت دی گی۔ اوسلو میں نوبل انسٹیٹیوٹ کے سربراہ اولاو نیجولس ٹاڈ بت نے کہا ہے کہ کسی نوبل امن انعام حاصل کرنے والے سے اس کا امن انعام واپس لیے جانا ناممکن ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic