1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوچی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے، ترجمان

میانمار کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بات گزشتہ ہفتے ان کی جماعت کی جانب سے عملی طور پر سیاست میں شامل ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

default

آنگ سان سوچی

آنگ سان سوچی کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش کے بارے میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے ترجمان Nyan Win نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا۔

سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ابھی جمعے کو بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی روز فوج کے زیر اثر حکومت کو متعدد اصلاحات کے لیے امریکی منظوری بھی ملی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ دِنوں اعلان کیا تھا کہ وہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو میانمار کے دورے پر بھیجیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی ہفتے کوکہا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہوا، اصلاحات کی حوصلہ افزائی کے لیے میانمار جائیں گے۔

یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ میانمار کے پارلیمنٹ میں اڑتالیس نشستیں خالی پڑی ہیں، لیکن ضمنی انتخابات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سوچی کو گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ وہ تقریباﹰ پندرہ برس قید یا نظر بند رہیں جبکہ فوجی حکومت نے انہیں نومبر کے انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک رکھا تھا۔ ان کی جماعت این ایل ڈی نے 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم اقتدار کبھی ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

UNO General Sekretär Ban Ki-moon

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون

آنگ سان سوچی کو میانمار میں ’دی لیڈی‘ کہا جاتا ہے اور وہ آزادی کی ایک علامت رہی ہیں۔ وہ ینگون میں اپنے ہی گھر میں مقید رہیں، جہاں دو خاتون خدمت گار ان کے ساتھ موجود رہیں۔ تاہم انہیں ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل نہیں تھی، جس کی وجہ سے بیرونی دُنیا سے ان کا رابطہ منقطع رہا۔

نومبر میں ہوئے انتخابات پر میانمار میں جمہوریت نوازوں اور مغربی حکومتوں نے تنقید کی تھی۔ ان انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات بھی لگائے گئےتھے اور ان کے ذریعے فوج اپنے من پسند رہنما پارلیمنٹ میں لانے میں کامیاب رہی۔ این ایل ڈی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM