1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’سوویت یونین‘ میں واپسی؟ یوکرائنی باغیوں کی ’حب الوطنی‘

یوکرائنی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں نوجوان حب الوطنی سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ قوم پرستانہ نغمے گانے کے ساتھ ساتھ یہاں سابق سوویت یونین سے جڑے ماضی کی پرستش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یوکرائن کے روس نواز باغی ملک کی مرکزی حکومت کو ’فاشسٹ‘ تصور کرتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ نوجوانوں میں ایک ایسی تحریک پیدا کر دی جائے جو کہ دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی ’سرخ فوج‘ کی طرز کی ہو۔ جس طرح اس کمیونسٹ ’سرخ فوج‘ نے نازیوں کو شکست دی تھی، اسی طرح یوکرائن کے باغی نوجوان دارالحکومت کییف میں بیٹھے حکم رانوں کو مزہ چکھانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

ڈونیستک میں موجود باغی سابق سوویت یونین کے دور میں اٹھنے ولی ’پائنیئر‘ تحریک سے متاثر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تحریک میں کمیونسٹ اسکاؤٹس کی تربیت کی جاتی تھی، اور دس برس کی عمر کو پہنچنے والے بچے اس میں شمولیت اختیار کرتے تھے۔

جیسا ’پائنیئر‘ کے تربیتی کیمپوں میں ہوتا تھا، ویسا یوکرائن کے باغی کیمپوں میں بھی ہو رہا ہے۔ کیمپ کے بیچوں بیچ الاؤ سے نوجوان ہاتھ تاپتے ہوئے اور سرخ رومال اور ٹوپیاں پہنے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں انہیں سابق سوویت رہنما لینن کی عظمت کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور ماسکو سے محبت کا سبق بھی دیا جاتا ہے۔

اس کیمپ میں موجود تئیس سالہ ایلگزانڈر نے ایک حب الوطن گانا لکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’ہمیں کوئی گرا نہیں سکتا، ڈونیستک کے نوجوان اسٹیل کے بنے ہوئے ہیں۔‘‘

ان نوجوانوں کی ملاقات ہر مہینے ایک بار ڈونیستک میں قائم دوسری عالمی جنگ سے متعلق میوزیم میں ہوتی ہے، جسے سوویت پرچموں اور عسکری بینرز سے سجایا گیا ہے۔ شہر میں سوویت آمر اسٹالن کے بڑے بڑے پوسڑ بھی آویزاں کر دیے گئے ہیں۔

گو کہ اب تک نوجوانوں کی اس تحریک میں صرف پچپن طالب علم شامل ہوئے ہیں تاہم متنظمین نے اس ادارے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی ہوئی ہے۔

تنظیم کی سربراہ لوئدمیلا میخالیوا کا کہنا ہے، ’’ہمارا مقصد حب الوطن افراد کو منظم کرنا ہے تاکہ ڈونیستک پیپلز ریپبلک کی ریاست کی تعمیر نو کی جا سکے۔‘‘

اٹھارہ سالہ ییلی زاویٹی کولزوفسکایا کا کہنا کہ اس نے تنظیم میں شمولیت اس لیے اختیار کی کہ اس کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ وہ یوکرائنی افواج کے ساتھ جنگ کرنے والے باغیوں میں شامل ہو۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی میرے خان دان پر مشین گنوں کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو میں بھی جواب دوں گی اور اپنے گھر کا دفاع کرنے سے ہچکچاؤں گی نہیں‘۔