1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’سونیا گاندھی دل سے سوشلسٹ ہیں‘‘

اطالوی نژاد بھارتی رہنما سونیا گاندھی کو جمعے کے روز چوتھی مرتبہ حکمران جماعت کانگریس پارٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ انہیں بھارت میں ایک مضبوط لیڈر کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

default

سونیا گاندھی ایک جلسے کے دوران، فائل فوٹو

سابق بھارتی وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کو متفقہ طور پر منتخب کئے جانے کے بعد پارٹی کارکنان نے زبردست جشن منایا۔ اپنے انتخاب کے بعد سونیا گاندھی نے کانگریس پارٹی کی قیادت کو اپنے لئے ایک بڑی ذمہ داری قرار دیا۔

’’یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور میں کانگریس کے تمام کارکنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ ہم اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں مگر ہمیں ہر وقت جہد ِمسلسل جاری رکھنا ہے۔‘‘

Rajiv Gandhi

راجیو گاندھی

کانگریس پارٹی کی سب سے طویل عرصے تک قیادت کا اعزاز حاصل کر لینے والی سونیا گاندھی کو جماعت کے نظم و نسق میں بہتری اور بہبود عامہ کی پالیسیوں کے باعث احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بھارت کی موجودہ تیز رفتار اقتصادی ترقی میں بھی سونیا گاندھی کی سوچ کا گہرا عمل دخل تسلیم کیا جاتا ہے۔

بھارت کے ایک سیاسی تجزیہ کار پارسا وینکاتیشور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : ’’سونیا گاندھی دل سے سوشلسٹ ہیں۔‘‘ کانگریس کی پے در پے انتخابی کامیابیوں کو سونیا گاندھی کی بہترین منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

63 سالہ گاندھی اپنی جوانی کے دور میں راجیو گاندھی سے شادی کر کے بھارت میں آ بسی تھیں۔ انہوں نے وہاں نہ صرف مغربی لباس کے بجائے ساڑھی اپنائی بلکہ گزشتہ کئی برسوں میں انہوں نے ہندی زبان میں بھی مہارت حاصل کی ہے۔

سونیا گاندھی نے سن 1984ء میں ایک سکھ محافظ کے ہاتھوں اپنی ساس اور اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل اور سیاسی صورت حال اپنے آنکھوں سے دیکھی۔ اس صورت حال نے انہیں بھارتی سیاست کی طرف توجہ مبذول کروائی۔

Indira Gandhi

اندرا گاندھی کو 1984ء میں قتل کردیا گیا تھا

اندرا گاندھی کے بعد، جب سونیا گاندھی کے شوہر راجیوگاندھی بھارتی وزیراعظم بنے، تو سونیا گاندھی نے بھارتی سیاسی صورتحال کو بھی قریب سے دیکھا۔ سن 1998ء میں انہیں پہلی مرتبہ کانگریس پارٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

سونیا گاندھی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بارہا کہا جاتا رہا کہ وہ ’اصل ہندوستانی‘ نہیں ہیں، تاہم بھارتی عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ قیادت سنبھالنے کے بعد سونیا گاندھی نے نہ صرف اپنے ناقدین کے منہ بند کر دئے بالکل کانگریس پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچایا۔ انہوں نے سن 2004ء میں پارٹی کی تنظیم نو کی اور عام انتخابات میں فتح حاصل کی۔ گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں بھی ان کی جماعت کو ایک مرتبہ پھر انتخابات میں فتح حاصل ہوئی تھی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM