1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سونامی کے چھ ماہ، جاپان ميں تعير نو کا بہت مشکل کام

چھ ماہ قبل 11 مارچ کو جاپان کو بيک وقت تين آفات کا سامنا کرنا پڑا تھا: شديد زلزلہ، سونامی جس کی سمندری لہريں 30 ميٹر تک بلند تھيں اور پھر ايٹمی تباہی۔ اس نے جاپان کو تبديل کر ديا ہے۔

يوشی ہيکونوڈا فوکوشيما کے کارکنوں سے مخاطب

يوشی ہيکونوڈا فوکوشيما کے کارکنوں سے مخاطب

 اگرچہ جاپان ميں تقريباً روزانہ ہی زلزلے کے جھٹکے محسوس کيے جاتے ہيں اور اس وجہ سے حفاظتی مشقيں بھی ہوتی رہتی ہيں، ليکن اس کے باوجود اس نوعيت کی تباہی کا مقابلہ کرنے کے ليے کوئی بھی پوری طرح تيار نہيں تھا۔

جاپان کے نئے وزيراعظم يوشی ہيکو نوڈا نے حال ہی ميں سونامی کا شکار ہونے والے ايٹمی بجلی گھر فوکوشيما کا دورہ کيا۔ حفاظتی لباس ميں ملبوس نوڈا نے شہری دفاع کے عملے کا شکريہ ادا کيا، جس کی بہادرانہ خدمات کی عوام ميں بہت تعريف کی جاتی ہے۔ ان کارناموں ميں فوکوشيما کے ری ايکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کے ليے تابکاری کی زد ميں آئے علاقے پر ہيلی کاپٹر کی پروازيں بھی شامل ہيں۔

جاپان کے شمال مشرق کے تباہ شدہ علاقے کی بستيوں ميں ٹوٹی ہوئی عمارتوں کا ملبہ بڑی حد تک صاف کرديا گيا ہے۔ اکثر جگہوں پرصرف مکانات کی بنياديں باقی رہ گئی ہيں۔ ريکوسينتاکاتا جيسے مقامات بھوت پريت کے مسکن نظر آتے ہيں۔ وہاں ايک باپ بيٹا اپنے تباہ شدہ مکان کے سامنے کھڑے باتيں کر رہے ہيں: ’’ ہم اب کہيں اور ايک نيا مکان تعمير کريں گے۔ نہيں، کہيں اور نہيں، يہيں پر۔‘‘

سونامی کی مہيب لہريں فوکوشيما ايٹمی بجلی گھر کی طرف بڑھ رہی ہيں

سونامی کی مہيب لہريں فوکوشيما ايٹمی بجلی گھر کی طرف بڑھ رہی ہيں

تباہ شدہ عمارات، مکانات اور سڑکوں وغيرہ کی تعمير نو کا کام بہت سست رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ليے منصوبے بھی مکمل ہونے ميں ابھی خاصا وقت لگے گا۔ لوگ يہ ہولناک واقعات فراموش تو نہيں کرسکتے، مگراب تناؤ کچھ کم ہو گيا ہے۔ ريکوسينتاکاتا ميں زلزلے سے اسکول کی عمارت بھی تباہ ہو گئی تھی۔ اب اسکول کے ليے عارضی طور پر ايک عمارت مہيا کر دی گئی ہے۔ بچے، اسکول بس ميں شہر کے تباہ شدہ حصوں سے بھی گذرتے ہيں، ليکن کلاس ميں ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہ سمندر کو کوئی خوفناک چيز نہيں سمجھتے: ’’ميں پہلے بڑے شوق سے مچھلياں پکڑنے جاتا تھا اور بہت سی مچھلياں پکڑا کرتا تھا۔ اب ميں پھر يہی کروں گا۔‘‘

11 مارچ کے سونامی کے بعد گمشدہ افراد کی تلاش

11 مارچ کے سونامی کے بعد گمشدہ افراد کی تلاش

فوکوشيما کے علاقے ميں 88 ہزار شہريوں کو ايٹمی تابکاری کے خطرناک حد تک پہنچ جانے کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر جانا پڑا تھا۔ اگر وہ کبھی واپس بھی آئے تو ايسا جلد ممکن نہيں ہو گا۔ تابکاری کی زد ميں آنے والی اشياء کو ٹھکانے لگانے کا کام سست رفتار سے ہو رہا ہے اور يہ بہت مشکل بھی ہے۔ ايک سائنسدان نے کہا کہ سورج مکھی کے پھول لگانے سے اس ميں بھی واقعی مدد مل رہی ہے: ’’ہميں اب ايسے اعدادوشمار دستياب ہيں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں سورج مکھی کے پھول اگائے گئے ہيں، وہاں تابکاری 30 سے 50 فيصد تک کم ہو گئی ہے۔‘‘

ليکن يہ کافی نہيں ہے اور اس کے ذريعے مکانات اور سڑکوں کو صاف بھی نہيں کيا جا سکتا۔

رپورٹ: پيٹر کويات،ٹوکيو / شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی      

 

DW.COM