1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سونامی سے متاثرہ شہر: صنوبرکا واحد پیڑ، امید کی علامت

سونامی سے متاثرہ ایک جاپانی شہر میں صنوبر کا واحد بچ جانے والا ایک درخت اس سانحےمیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کی یادگار کے ساتھ ساتھ شہر کے باسیوں کے لیے امید کی ایک علامت بھی بن گیا ہے۔

default

Flash-Galerie Japan Erdbeben und Tsunami Nachwirkungen

اس علاقے کی دس فیصد آبادی یا تو ہلاک ہو گئی یا ابھی تک لاپتہ ہے

جاپانی شہر ریکوزینتاکاتا کے اردگرد 70 ہزار درخت اسے سمندری ہواؤں سے بچانے کے لیے گزشتہ تین سو برسوں سے موجود تھے۔ مگر گزشتہ ماہ آنے والے بدترین زلزلے کے بعد سونامی کی اونچی اور تباہ کن لہروں نے ان تمام درختوں کو تہس نہس کر دیا۔ ریکوزینتاکاتا شہر اب ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے، جس کی کل آبادی کا تقریباﹰ دس فیصد اس خوفناک قدرتی آفت سے یا تو ہلاک ہو چکا ہے، یا ابھی تک لاپتہ ہے اور وہاں کی عمارتیں اب صرف ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔

اس شہر کو سمندری ہواؤں کے تھپیڑوں سے تحفظ فراہم کرنے والے کالے اور سرخ صنوبر کے یہ درخت اب اس پورے تباہ حال علاقے میں ماچس کی تیلیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ شہر گزشتہ ماہ کی گیارہ تاریخ تک جاپان کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک تھا، جہاں دنیا بھر سے بے شمار سیاح تفریح کی غرض سے جایا کرتے تھے۔

اس علاقے میں، جہاں اب ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی ہے، صنوبر کا ایک واحد بچ جانے والا درخت اب بھی سلامت کھڑا ہے۔ علاقے کے برباد حال مکینوں کے نزدیک اتنے سنگین سونامی کے مقابلے میں اس چھوٹے سے پیڑ کا زندہ سلامت موجود رہنا اور طاقتور لہروں کے مقابلے میں اپنی جگہ پر جمے رہنا کسی معجزے سے کم نہیں۔

Japan nach dem Erdbeben und Tsunami 20.03.2011

تمام شہر ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے

اس درخت کے قریب کھڑی 23 سالہ نوجوان لڑکی ایری کامایشی کے مطابق وہ ٹھیک طرح سے پہچان ہی نہیں پا رہیں کہ یہ وہی شہر ہے، جیسا سونامی سے پہلے تھا۔ کامایشی کا کہنا ہے کہ شہر کی جانب لوٹ کر آنے والے تمام لوگ اس درخت کو ’امید کے صنوبر‘ نے نام سے پکار رہے ہیں۔

’’یہاں اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے، سوائے اس ایک درخت کے۔ میری خواہش ہے کہ میں پھر سے اس جگہ بےشمار درخت دیکھوں۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس