1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سونامی جاپانی جانوروں کو ہزاروں میل بہا کر امریکا لے آئی

جاپان میں سن 2011 میں شدید زلزلے کے بعد تباہ کن سونامی اپنے ساتھ تباہ شدہ مکانوں، جہازوں اور دیگر باقیات کو بحرالکاہل میں بہا لے گئی تھی۔ ایسی ہی باقیات پر سوار مختلف جانور 7000 کلومیٹر سفر کرتے ہوئے امریکا پہنچے۔

محقیقن نے ایسے آبی و غیر آبی جانداروں کی 289 مختلف اقسام کی امریکا کے مغربی ساحلوں اور ہوائی شہر میں موجودگی کی نشاندہی کی ہے جو سونامی کے بعد سات ہزار کلومیٹر سے بھی زائد لمبا سفر کر کے جاپان سے امریکی ساحلوں تک پہنچے۔

8.3 شدت کا زلزلہ، دس لاکھ افراد گھر بار چھوڑ گئے

فوکوشیما جوہری ری ایکٹر سے ایک بار پھر تابکاری کا اخراج

جاپان سے امریکا پہنچنے والے ان جانداروں میں کئی مچھلیوں اور جھینگوں سمیت کئی دیگر مختلف قسم کے جاندار شامل تھے۔ محققین اس بات پر حیران ہیں کہ گزشتہ چھ برسوں سے بحر الکاہل کے کھلے پانیوں میں طویل سفر کر کے بھی یہ جانور کیسے سلامت رہے۔ ان میں سے کئی اقسام نے ان سمندری راستوں میں نسلی تسلسل کو بھی قائم رکھا۔

یہ تحقیق امریکا کے ولیمز کالج سے تعلق رکھنے والے جیمز کارلٹون کی قیادت میں محقیقین کی ایک ٹیم نے امریکی ساحلوں پر چھ سو سے زائد مختلف جاپانی ’باقیات‘ کا جائزہ لنے کے بعد جاری کی ہے۔ ان باقیات میں پلاسٹک کے ٹکڑوں سے لے کر مکمل بحری جہاز تک شامل تھے جنہیں سونامی کی لہریں تباہی پھیلانے کے بعد اپنے ساتھ واپس بحر الکاہل میں لے گئی تھیں اور پھر سمندر میں سفر کرتے کرتے یہ امریکی ساحلوں تک جا پہنچے تھے۔

محققین کی اس ٹیم میں شامل جان چیپمان کا کہنا ہے کہ اتنے طویل سفر کے بعد بچ جانے والے جانداروں کو دیکھ کر وہ ’شاک‘ کی کیفیت میں تھے۔ جان کا کہنا ہے کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ دور دراز سے آنے والے ان میں سے کئی جاندار اپنے ساتھ ممکنہ طور پر کئی طرح کی بیماریاں بھی لا سکتے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان جانداروں نے نئے علاقے میں اپنے ٹھکانے بھی بنائے ہیں یا نہیں۔ اس موضوع پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے لیکن عام طور پر اس بابت حتمی رائے قائم کرنے کے لیے کئی برس بلکہ دہائیاں درکار ہوتے ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جاپانی سونامی کے چھ برس بعد بھی اب تک باقیات کے امریکی ساحلوں تک پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں سے زیادہ تر باقیات پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزوں کی ہیں۔ لکڑی کے ٹکڑوں پر مبنی باقیات کی امریکی ساحلوں تک آمد کا سلسلہ سن 2014 تک جاری رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق لکڑی کے ٹکڑے اتنے طویل سفر اور وقت کے بعد پانی میں تحلیل ہو جاتے ہیں تاہم پلاسٹک کی زندگی طویل ہونے کے سبب اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

لیکن کیا ایسا ایک ہی مرتبہ ہوا ہے؟ سائنسدانوں کی رائے میں ممکنہ طور پر جانوروں کے بین البراعظمی سفر کے ایسے واقعات میں مستقبل میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور ایسے سفر میں سمندروں میں پہنچنے والے پلاسٹک کے ٹکڑے ذریعہ سفر بنیں گے۔

فوکوشیما حادثے کے چھ سال، خواتین اور بچے سب سے زیاہ متاثر

نیوزی لینڈ میں زلزلے کے بعد سونامی کی پہلی لہر

DW.COM