1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سول جوہری لائبیلیٹی کنوینشن : بھارت نے دستخط کر دئے

بھارتی حکومت نے جوہری توانائی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی ضابطے پر عمل درآمد اور عمل پیرا ہونے کی دستاویز پر دستخط کر دئے ہیں۔

default

ایک بھارتی جوہری مرکز کا کنٹرول روم

Convention on Supplementary Compensation for Nuclear Damage نامی جس معاہدے پر بھارت نے دستخط کئے ہیں اس کا مقصد کسی جوہری حادثے کے دوران متاثر ہونے والے افراد کو تلافی دینا مقصود ہے۔ یہ تلافی، جوہری تنصیبات چلانے والےیعنی سپلائر سے حاصل کی جائے گی۔ مبصرین اس کنوینشن پر دستخط کو اگلے ماہ سے شروع ہونے والے امریکی صدر کے دورہ بھارت سے وابستہ کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کنوینشن پر دستخط کے بعد بھارت جوہری توانائی کے سیکٹر میں دو طرفہ بین الاقوامی تجارت شروع کرنے کے اور قریب ہو گیا ہے۔

ویانا میں کنوینشن پر دستخط بھارت کے سفیر ڈنکر کھولر نے کئے۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی پر نگاہ رکھنے والے ادارے IAEA نے اس کی تصدیق کردی ہے۔ اس کنوینشن کا مکمل طور پر اقوام پر ابھی نافذ ہونا باقی ہے کیونکہ اب تک بھارت سے قبل چار دوسرے ملکوں نے اس توثیق کی تھی۔ ان ملکوں میں مراکش، ارجنٹائن، امریکہ اور رومانیہ شامل ہیں۔ اس

Abkommen zwischen Indien und den USA erlaubt Handel mit Kernmaterial

بھارت امریکہ سول جوہری معاہدہ اور بھارت میں احتجاج: فائل فوٹو

مناسبت سے یہ بھی اہم ہے کہ بھارت پر جوہری مواد کی تجارت پر پابندی سن 2008ء میں ختم کردی گئی تھی۔ یہ پابندی بھارت امریکہ سول جوہری معاہدے کی تفصیلات طے ہونے کے بعد اٹھائی گئی تھی۔ دوسری جانب بھارت نے ابھی تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ اس معاہدے پر دستخط نہ کرنے والوں میں اسرائیل اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

امریکہ نے بھارت کی جانب سے CSC پر دستخط کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے خیر مقدمی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری تجارت کو فروغ اور اعتماد حاصل ہو گا۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور ولیم برنس نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پریس بریفنگ میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی قدم کو بہت مثبت قرار دیا ہے۔

امریکی صدر اگلے ماہ بھارت، انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ کریں گے۔ان کا سہ روزہ سرکاری دورے چھ نومبر سے شروع ہو گا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس