1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سولہ افغان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس ہے، امریکا

افغان صوبے ہلمند میں ایک امریکی فضائی حملے میں سولہ افغان پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ امریکی حکام نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکی بیان میں کہا گیا کہ یہ فضائی حملہ افغان دستوں کے ایک مرکز پر اس وقت کیا گیا، جب علاقے میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں۔ اس بیان میں ہلاک شدگان کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس سے قبل ہلمند کے گورنر عمر زواک نے بتایا تھا کہ اس حملے میں سولہ افغان پولیس اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ہلمند صوبے کا زیادہ تر حصہ طالبان کے زیر انتظام ہے جبکہ گزشتہ کئی ماہ سے اس صوبے میں وقفے وقفے سے کابل دستوں اور طالبان کے مابین شدید لڑائی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ہلمند کو طالبان سے آزاد کرانے کی کوششوں میں مقامی فوج کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو اور امریکی دستوں کا تعاون حاصل ہے۔

 

 

 

افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی تعداد نئی ریکارڈ حد تک زیادہ

ہلمند میں خود کش کار بم حملہ: درجنوں افراد ہلاک، بیسیوں زخمی

ہلمند پولیس کے سربراہ عبدالغفار صفی نے آج ہفتے کے روز  خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا  کہ امریکی فضائی حملے میں مارے جانے والے علاقے میں جاری ایک فوجی کارروائی میں شامل تھے۔ ان کے بقول جیسے ہی انہوں نے طالبان کی ایک چوکی پر دوبارہ قبضہ کیا، یہ حملہ ہوا۔ تاہم ایسی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ طالبان کی چوکی پر حملے کرنے والے پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں تھے، جس کی وجہ سے شکوک پیدا ہوئے۔

 

دوسری جانب بدخشان صوبے میں بھی طالبان کے ساتھ ایک جھڑپ میں گیارہ پولیس اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ صوبائی حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد بیس پولیس اہلکار لاپتا بھی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا ہے یا پھر یہ خود کہیں فرار ہو گئے ہیں۔

 

 

ویڈیو دیکھیے 01:42

طالبان کے خطرے نے امریکا کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا

DW.COM

Audios and videos on the topic