سولہ افغان صوبوں میں افغان طالبان کے ’شیڈو گورنر‘ تبدیل | حالات حاضرہ | DW | 27.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سولہ افغان صوبوں میں افغان طالبان کے ’شیڈو گورنر‘ تبدیل

افغان طالبان کے سربراہ مُلاّ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اپنی تحریک پر اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے حال ہی میں افغانستان کے چونتیس میں سے سولہ صوبوں کے ’شیڈو گورنر‘ تبدیل کر دیے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے یہ بات رواں ہفتے افغان طالبان کے سرکردہ ارکان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے بتائی ہے۔ روئٹرز کے مطابق اُس نے ایک فہرست دیکھی ہے، جس کی طالبان تحریک کے مرکزی ترجمان نے تصدیق بھی کی ہے اور جس میں صوبائی سطح کے اُن آٹھ عہدیداروں کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک وہ عہدیدار بھی ہے، جس کا کام یہ ہو گا کہ وہ شہری علاقوں میں حملوں کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس کمانڈر کا نام علا دین آغا بتایا گیا ہے، جو پہلے جنگجوؤں کے تربیتی کیمپوں کا انچارج تھا اور جسے اب ’اسلحے کے لیے مالی وسائل اور تکنیکی مدد کا ڈائریکٹر‘ بنا دیا گیا ہے۔

مُلاّ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کابل حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کوشاں افغان طالبان تحریک کی قیادت گزشتہ سال مئی میں اُس وقت سنبھالی تھی، جب اُن کے پیش رَور مُلاّ اختر منصور کو جنوب مغربی پاکستان میں ایک امریکی ڈرون سے فائر کیے جانے والے میزائل کی مدد سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران افغان طالبان اپنی صفوں میں پائی جانے والی پھُوٹ اور اپنے جنگجوؤں کے دیگر اسلامی گروپوں مثلاً ’اسلامک اسٹیٹ‘ میں شامل ہو جانے کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں۔ کچھ سینیئر عسکریت پسند ذرائع کے مطابق نئی تقرریاں اخوندزادہ کے ہاتھ مضبوط کریں گی تاہم ہلمند میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

Pakistan Nach einem Drohnenangriff (Getty Images/AFP)

مُلاّ ہیبت اللہ اخوند زادہ کے پیش رَور مُلاّ اختر منصور کو پاکستان میں ایک امریکی ڈرون سے فائر کیے جانے والے میزائل کی مدد سے ہلاک کر دیا گیا تھا

جنوبی صوبے ہلمند کا زیادہ تر علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے طالبان کو افیون کی پیداوار کے ذریعے کافی زیادہ مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں۔ متعدد طالبان کے ذرائع کے مطابق اخوند زادہ کو ہلمند پر اُتنا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، جو اُن کے پیش رو مُلاّ اختر منصور کو حاصل تھا۔

پاک افغان سرحد پر مقیم ایک سینیئر طالبان رہنما نے، جو وزیر بھی رہ چکے ہیں، بتایا:’’مُلاّ ہیبت اللہ اپنی پوزیشن اور طاقت مزید مستحکم کرنے کی کوششوں میں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا ہے۔‘‘

طالبان 1996ء سے لے کر 2001ء تک افغانستان پر حکومت کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کی کٹر اسلامی حکومت کو امریکی سرکردگی میں لڑنے والے اتحادیوں نے ختم کر دیا۔

طالبان کے سرکاری ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے علاوہ قطر اور افغانستان میں دو اور طالبان شخصیات نے چوبیس نئے طالبان عہدیداروں کے ناموں کی فہرست کی تصدیق کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ’رہبری شوریٰ‘ کہلانے والی مرکزی سربراہ کونسل کے عہدیداروں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

Afghanistan Opiumproduktion (Imago/Omid Khanzada)

ہلمند کا زیادہ تر علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے طالبان کو افیون کی پیداوار کے ذریعے کافی زیادہ مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں

جہاں روئٹرز کے ذرائع کے مطابق مُلاّ ہیبت اللہ اور ہلمند میں طالبان کے ’شیڈو گورنر‘ کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، وہاں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان دونوں کے درمیان کسی قسم کے تناؤ کی خبروں کو رَد کر دیا۔

روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیبت اللہ کی ایک بڑی کامیابی کابل سے مغرب کی جانب واقع وردک صوبے میں باز محمد کو ’شیڈو گورنر‘ بنانا ہے۔ باز محمد کا تعلق بھی ہیبت اللہ ہی کی طرح نوری قبیلے سے ہے اور  یہ وہ شخص ہے، جس نے 2015ء میں مُلاّ اختر منصور کے سربراہ بننے پر اِس لیے اُس کے خلاف بغاوت کی تھی کہ اُس نے دو سال تک مُلاّ عمر کی موت کی خبر کو چھپائے رکھا تھا۔