1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سولر امپلس کی پہلی بین الاقوامی پرواز

شمسی توانائی سے اڑنے والے پہلے انسان بردار جہاز نے اپنی اولین بین الاقوامی پرواز مکمل کر لی ہے۔ قریب 3600 میٹر کی بلندی پر سفر کرتے ہوئے سولر امپلس نے سوئٹزر لینڈ سے برسلز تک 480 کلومیٹر کا فاصلہ 12 گھنٹے میں طے کیا۔

default

سولر امپلس نے جمعہ 13 مئی کی صبح مقامی وقت کے مطابق 8:40 منٹ پر سوئٹزر لینڈ کےمغربی علاقے میں موجود پائیَرن ایئربیس سے اپنی پرواز کا آغاز کیا۔ ایک ہی سیٹ کے حامل اس جہاز کو سولر امپلس پراجیکٹ کے شریک بانی Andre Borschberg اڑا رہے تھے۔

یہ جہاز فرانس اور لکسمبرگ کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا برسلز پہنچا۔ سولر امپلس تیار کرنے والی کمپنی کی ترجمان الیگزینڈرا گِنڈروز Alexandra Gindroz نے دوران پرواز میڈیا کو بتایا: ’’ہر چیز بالکل ٹھیک ہے اور یہ جہاز قریب 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں اپنا سفر طے کر رہا ہے۔‘‘

سولر امپلس کو اس پراجیکٹ کے شریک بانی Andre Borschberg اڑا رہے تھے

سولر امپلس کو اس پراجیکٹ کے شریک بانی Andre Borschberg اڑا رہے تھے

سولر امپلس HB-SIA کے پروں کا پھیلاؤ ایک بوئنگ جہاز کے پروں کے برابر ہے، تاہم اس کا وزن ایک کار سے زیادہ نہیں ہے۔ اس جہاز نے گزشتہ برس جولائی کے آغاز میں مسلسل 26 گھنٹے، 10 منٹ اور 19 سیکنڈ تک پرواز کرنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس طرح یہ پہلا جہاز تھا جس نے سورج کی توانائی سے دن میں ہی نہیں بلکہ رات کو بھی پرواز جاری رکھی۔ سوئٹزر لینڈ کے اوپر ہی یہ جہاز 9235 میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا رہا، جو کہ شمسی توانائی سے اڑنے والے جہاز کے لیے بلندی کا بھی ایک ریکارڈ ہے۔

سولر امپلس HB-SIA کو توانائی فراہم کرنے کے لیے اس کے 64 میٹر طویل پروں کے اوپر 12 ہزار سولر سیل لگے ہیں، جو اس میں لگی بیٹریوں کو چارج کرتے ہیں۔ ان بیٹریوں کی مدد سے 10 ہارس پاور کی حامل بجلی کی موٹروں کو چلایا جاتا ہے۔ ان موٹروں کے ساتھ چار پروپیلرز منسلک ہیں۔

سولر امپلس نے جمعہ 13 مئی کی صبح مقامی وقت کے مطابق 8:40 منٹ پر سوئٹزر لینڈ سے اپنی پرواز کا آغاز کیا

سولر امپلس نے جمعہ 13 مئی کی صبح مقامی وقت کے مطابق 8:40 منٹ پر سوئٹزر لینڈ سے اپنی پرواز کا آغاز کیا

گرین ٹیکنالوجی کا شاہکار سولر امپلس، برسلز ایئرپورٹ پر 29 مئی تک نمائش کے لیے موجود رہے گا، جہاں سے یہ پرواز کرکے پیرس میں شیڈول بین الاقوامی ایئر شو میں پہنچے گا۔ سولر امپلس پراجیکٹ کے سربراہ اور شریک بانی Bertrand Piccard نے گرین انرجی اور خاص طور پر شمسی توانائی کی افادیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’ یہ ایک اصلی جہاز ہے، اڑتا ہوا، ایک ثبوت کہ ہم فوسل فیول سے حاصل ہونے والی توانائی پر اپنا انحصار کم کرسکتے ہیں۔‘‘

سولر امپلس کی ٹیم مستقبل میں اسے مزید لمبے فاصلوں تک اڑانے کے منصوبے رکھتی ہے۔ ان میں بین البراعظمی اور بحر اوقیانوس پار کرنے کے علاوہ دنیا کے گرد چکر لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس