1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’سولر امپلس‘ کی ٹیسٹ پرواز ملتوی

سوئٹزر لینڈ کے ایک ہوائی مرکز سے جمعرات کو شمسی توانائی سے چلنے والے پہلے ہوائی جہاز کی پرواز کو عالمی سطح پر توجہ حاصل تھی مگر یہ آزمائشی پرواز تکنیکی وجوہ پر منسوخ کردی گئی ہے۔

default

سولر امپلس کے روح رواں بیرتراں پیکارد

یورپی ملک سوئٹزر لینڈ کے مغربی حصے میں واقع ایک فوجی ہوائی مرکز پر کئی ماہرین اور محققین کی نگاہیں اس ہوائی جہاز پر مرکوز تھیں جو فضا میں شمسی توانائی سے پرواز کرنے والا تھا مگر اس کی طے شدہ پرواز روانگی سے ایک گھنٹہ قبل منسوخ کردی گئی، کیونکہ ہوائی جہاز کے ٹرانسمیٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ شمسی توانائی سے چلنے والے ہوائی جہاز ’سولر امپلس‘ کے پائلٹ آاندرے بورش بیرگ روانگی کے لئے پوری طرح تیار تھے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے اس ہوائی جہاز کی آزمائشی پرواز پچیس گھنٹوں پر رکھی گئی تھی۔ اب اعلان کیا گیا ہے کہ مرمت کے بعد بہتر موسم کے مطابق پرواز دوبارہ شیڈیول کی جائے گی۔ اس ٹیسٹ پرواز کی مانیٹرنگ کے لئے انٹرنیشنل ایرناٹیکل فیڈریشن کے مبصرین بھی موجود تھے۔

شمسی توانائی سے اڑنے والے ہوائی جہاز کے سارے عمل کے پس پردہ سوئٹزر لینڈ کے مہم جو بیرتراں پیکارد ہیں۔ انہوں نے اپنے اس حیران کن

Lufthansa Flugzeug

سولر امپلس ہوائی جہاز کے پر ایئر بس ہوائی جہاز جتنے بڑے ہیں

جہاز کا نام ’سولر امپلس‘ رکھا ہے۔ اس نام کا لفظی مطلب تو’ شمسی ترنگ‘ کہا جا سکتا ہے لیکن عام فہم انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ہوائی جہاز سورج کی روشنی سے حرکت کی قوت حاصل کرکے فضا میں اپنے سفر کو جاری رکھے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے ہوائی جہازوں کی کامیابی کا امکان فضا میں دستیاب سورج کی روشنی پر ہے۔ اگر پرواز کے بعد بالائی فضا پر گہرے بادل چھا جاتے ہیں تو پھر کیا ہو گا۔ ایسے بہت سے سوالوں کا جواب دیا جانا ابھی باقی ہے۔

خیر ابھی تواس سوچ کو کمرشل حقیقت کا روپ حاصل ہونا باقی ہے کیونکہ جمعرات کی آزمائشی پرواز منسوخ ہو چکی ہے۔ پیکارڈ کا خیال ہے کہ ان کا ’سولر امپلس‘ نامی جہاز رات کی تاریکی میں بھی سورج کی شعاؤں سے قوت حاصل کرکے پرواز جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ہوائی جہاز کا ایندھن سورج کی روشنی ہے۔ پرواز کی منسوخی پر بیرتراں پیکارد کافی مایوس ہوئے۔

پیکارد گزشہ سات سالوں سے اس نظریے پر کام کر رہے ہیں۔ اس جہاز کی تیاری کے لئے ستر افراد پر مشتمل ایک ٹیم مصروف رہی۔ اس ٹیم میں ایروناٹیکل ایکسپرٹس سے لے کر شمسی توانائی کے ماہرین شامل ہیں۔ ’سولر امپلس‘ نامی ہوائی جہاز سردست ایک سیٹ پر مشتمل ہے اور اس پر بیٹھ کر پائلٹ ہوائی جہاز کو اڑائے گا۔ اس ہوائی جہاز کا وزن بظاہر ایک چھوٹی کار جتنا ہے لیکن اس کے پروں کی لمبائی ایئر بس 340 ہوائی جہاز جتنی ہے۔

یہ جہاز اس ہیت میں سات ماہ پہلے تیارکیا جا چکا تھا اور اب تک اس کی دس ٹیسٹ پروازیں کامیابی سے مکمل ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ایک پرواز دن کی روشنی میں چودہ گھنٹوں پر محیط تھی۔ آزمائشی پرواز کے دوران ’سولر امپلس‘ نے 27 ہزار فٹ سے زائد کی بلندی تک جانا تھا۔ ابھی اس کی فضائی رفتار بھی ستر کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔

ٹیسٹ کی کامیابی کے بعد زیادہ نشستوں والے ہوائی جہاز کی پلاننگ کی جا چکی ہے۔ توقع ہے کہ سن 2013 ء یا چودہ میں ایسے جہاز عام ہو سکیں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM