1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سوفٹ ڈرنکس سے لبلے کے کینسر کے خطرات زیادہ

کیسنر سے متعلق تحقیقی جریدے 'کینسر ایپی ڈیمیولوجی، بائیومارکرز اینڈ پریوینشن' میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق ایسے افراد جو ہفتے میں دو یا دو سے زائد کولڈ ڈرنکس پیتے ہیں، ان میں پینکریاٹک کیسنر کے خطرات دوگنا ہوجاتے ہیں۔

default

پینکریاٹک یا لبلبے کا کینسر یوں تو بہت ہی کم لوگوں کو ہوتا ہے مگر کینسر کی یہ قسم جان لیوا ترین اقسام میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے مریض جن میں پینکریاٹک کینسر کی تشخیص ہوتی ہے ان کی پانچ فیصد سے بھی کم تعداد پانچ برس یا اُس سے زیادہ زندہ رہ پاتی ہے۔

سوفٹ ڈرنکس دراصل کاربونیٹڈ میٹھے مشروبات ہوتے ہیں یعنی ایسے مشروبات جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو حل کیا گیا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا Minnesota کے پروفیسر مارک پیریرا Mark Pereira کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو باقاعدگی سے سوفٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں وہ بحیثیت مجموعی زیادہ بہتر طرزعمل کا مظاہرہ کرنے والے نہیں ہوتے۔ تاہم ان سوفٹ ڈرنکس کا پینکریاٹک کینسر پر اثر بہت ہی حیرت انگیز ہوتا ہے۔

پروفیسر پیریرا کے مطابق سوفٹ ڈرنکس میں موجود میٹھے کی زیادہ مقدار دراصل ہمارے جسم میں موجود انسولین کو بڑھاسکتی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہےکہ یہ پینکریاٹک کینسر کے سیلوں کو بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔

Cancer Diseases Hospital Zambia 1

ایسے مریض جن میں پینکریاٹک کینسر کی تشخیص ہوتی ہے ان کی پانچ فیصد سے بھی کم تعداد ایسی ہوتی ہے جو پانچ برس یا اُس سے زیادہ زندہ رہ پاتی ہے۔

امریکی تحقیقی جریدے"Cancer Epidemiology, Biomarkers & Prevention" میں چھپنے والی اس تحقیق کے لئے مارک پیریرا اور ان کی ٹیم نے سنگاپور میں 14 برس سے جاری 60 ہزار 524 مرد وخواتین کی صحت سے متعلق اسٹڈی کا بغور جائزہ لیا۔

اس عرصے کے دوران ان خواتین وحضرات میں سے 140 کو لبلبے کا کینسر لاحق ہوا۔ تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جو ایک ہفتے میں اوسطاﹰ پانچ سوفٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں ان میں ایسے افراد کی نسبت پینکریاٹک کینسر کے خطرات 87 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جو کولڈ ڈرنکس بالکل ہی نہیں پیتے۔

تاہم محققین کے مطابق فروٹ جوس پینے کا پینکریاٹک کینسر سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔

پروفیسر مارک پیریرا کا کہنا ہے کہ سنگاپور ایک امیر ملک ہے جس میں صحت کے حوالے سے بہت اچھی سہولیات میسر ہیں، اور جہاں وقت گزارنے کے پسندیدہ طریقوں میں کھانا پینا اور خریداری کرنا شامل ہے۔ لہذا اس ملک میں سامنے آنے والے طبی اعداوشمار مغربی ملکوں میں بھی قابل اطلاق ہوسکتے ہیں۔

تاہم Yale یونیورسٹی کے شعبہ کیسنر اور ایپی ڈیمیولوجی کی ڈائریکٹر سوزن مائن کا کہنا ہے کہ یہ طبی نتائج حیران کن تو ہیں مگر اس جائزے میں شامل افراد کی تعداد کافی کم ہے، اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کہ پینکریاٹک کینسر کی وجہ محض سوفٹ ڈرنکس ہی تھیں یا کوئی اور بھی۔ لہذا اس جائزے سے کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنے سے پیشتر اِن حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سوزن کے بقول سنگاپور میں سامنے آنے والے طبی نتائج میں سوفٹ ڈرنکس کا استعمال، صحت کے لئے دیگر خطرناک عادتوں کےساتھ جُڑا ہوا ہے، جن میں تمباکو نوشی اور سرخ گوشت کا استعمال بھی شامل ہے۔ لہذا ان چیزوں کا اثر بھی ان نتائج میں شامل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عاطف بلوچ