1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوشل ڈیموکریٹ یوسیپووچ کروشیا کے صدر منتخب

کروشیا میں سوشل ڈیموکریٹ ایوو یوسیپووچ ملک کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہیں اتوار کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 60.3 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

default

ایوو یوسیپووچ کی انتخابی مہم کے دوران لگایا گیا ان کا پوسٹر

عوامی جائزوں میں بھی یوسیپووچ کی جیت کی پیشن گوئیاں کی جا چکی تھیں۔ ان کا مقابلہ زاغریب کے میئر میلان بانڈچ کے ساتھ تھا، جنہیں 39.71 فیصد ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ بانڈچ کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا بھی رہا۔

Kroatien Präsident Stipe Mesic

کروشیا کے موجودہ صدر اسٹیپے میسیچ

فاتح یوسیپووچ نے اپنی انتخابی مہم میں ملک کے لئے یورپی یونین کی رکنیت کی کوششوں اور بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کا وعدہ کیا۔ کروشیا نے 2012ء تک یورپی یونین کا رکن بننے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

یوسیپووچ نے اپنی انتخابی جیت کے بعد کروشیا کو ایسا معاشرہ بنانے کا عندیہ دیا، جہاں یورپی اقدار کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کروشیا کو محض یورپی یونین کا رکن ہی نہیں بنانا چاہتے بلکہ وہاں جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، مذہبی ہم آہنگی اور قانون کے احترام کا فروغ بھی چاہتے ہیں۔

یوسیپووچ کی فتح کا اعلان دراصل ابتدائی نتائج آنے پر ہی کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم کے سربراہ Mirando Mrsic نے کہا کہ اتوار کی پولنگ دراصل ایک ریفرنڈم تھی، جس میں کروشیا کے عوام نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ اپنے ملک کو جدید اور یورپی معاشرے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

Präsidentschaftswahl Kroatien

زغرب کے میئر میلان بانڈچ

یوسیپووچ نے ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2009ء کے حتمی اعدادوشمار میں ملکی معیشت میں چھ فیصد کمی دیکھی جا سکتی ہے، جس میں رواں برس بھی بہتری کے کوئی آثار نہیں ہے۔ زغرب حکومت کوبے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کا مسئلہ بھی درپیش ہے، جو 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

یوسیپووچ فوجداری قانون کے لیکچرر اور کلاسیکل موسیقار بھی ہیں۔ 1991ء میں کروشیا کی آزادی کے بعد وہ اس کے تیسرے صدر ہوں گے۔ خیال رہے کہ کروشیا میں صدر کے پاس اختیار کم ہی ہوتے ہیں اور نظام حکومت وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔

کروشیا کے موجودہ صدر اسٹیپے میسیچ 18 فروری کو سبکدوش ہو رہے ہیں۔ وہ 10 برس تک ملک کے صدر رہے۔

1990ء کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے زوال کے نتیجے میں بننے والی چھ ریاستوں میں سے سلووینیہ کو ہی یورپی یونین کی رکنیت حاصل ہے۔ دیگر ریاستوں میں کروشیا، بوسنیا، مقدونیہ، مونتے نیگرو اور سربیا شامل ہیں۔ تاہم کروشیا گزشتہ برس مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا رکن بن چکا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM