1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوشل ڈیموکریٹ شلس نے جرمن سیاست کا نقشہ ہی بدل ڈالا

جرمن دارالحکومت میں ایس پی ڈی کی پارٹی کانگریس میں مارٹن شلس کو پارٹی قیادت باضابطہ طور پر تفویض کر دی گئی ہے۔ اس طرح اب وہ رواں برس ستمبر کے الیکشن میں چانسلر شپ کے لیے میرکل کے مد مقابل ہوں گے۔

برلن منعقدہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طور پر مارٹن شلس کو اپنا لیڈر منتخب کیا۔ پارٹی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیڈر شپ کے کسی امیدوار کو ایک سو فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پارٹی کانگریس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اکسٹھ سالہ شلس نے کہا کہ اب سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو ملک کی سب سے بڑی جماعت میں تبدیل کرنے کی جدوجہد شروع کی جائے گی تا کہ انجام کار چانسلر کا منصب بھی اسی پارٹی کے دامن میں آ سکے۔

Deutschland SPD-Bundesparteitag in Berlin (picture-alliance/dpa/M. Kappeler)

جرمن دارالحکومت میں منعقدہ ایس پی ڈی کے اراکین کی کانگریس

چند ہفتے قبل تک چانسلر میرکل کی سی ڈی یو کو ایس پی ڈی پر انتہائی بڑی سبقت حاصل تھی اور تجزیہ کار جسے ناقابلِ تسخیر قرار دے رہے تھے لیکن گزشتہ ویک اینڈ پر یہ سبقت ختم ہو گئی۔ اب ایس پی ڈی کو سی ڈی یو پر ایک پوائنٹ کی برتری بھی حاصل ہو چکی ہے۔ ایک روزہ پارٹی کانگریس میں اس سبقت کے حوالے سے شلس نے کہا کہ یہ حوصلہ افزاء ہے کہ لوگ ایک مرتبہ پھر ایس پی ڈی کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

مارٹن شلس اپنی پارٹی کی مقبولیت میں اضافے کو روایتی پالیسی کے احیا سے جوڑتے ہیں۔ یہ پالیسی دولت کی مناسب تقسیم، مفت تعلیم اور  جنسی مساوات پر مبنی ہے۔ جرمن سوشل میڈیا کے کئی سرگرم کارکنوں نے مارٹن شلس کو ’رابن ہُڈ‘ کے لقب سے نوازا ہے۔ انہوں نے پارٹی کانگریس میں یورپ کی عوامیت پسند تحریکوں کی واضح انداز میں نفی کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی کی صورت میں ان کے خلاف بھرپور جدوجہد شروع کی جائے گی۔ اسی طرح انہوں نے یورپی اتحاد پر شکوک ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ نسلی تعصب ظاہر کرنے والوں کی بھی مذمت کی۔

Deutschland Martin Schulz zum neuen SPD-Chef gewählt (Reuters/F. Bensch)

ایس پی ڈی کی قیادت سنبھالنے کے بعد مارٹن شلس کسی بات پر زوردار قہقہ لگاتے ہوئے

یہ امر اہم ہے کہ مارٹن شلس پر قدامت پسندوں کا الزام ہے کہ وہ عوامیت پسندوں کا لب و لہجہ اختیار کر کے مقبولیت کا زینہ طے کر رہے ہیں۔ شلس نے ان الزامات کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اجلاس میں ان کی تقریر قطع نظر مخالفین کے، عام لوگوں کے لیے تھی اور پیچیدہ معاملات کو سہل انداز میں بیان کرنے کی ایک کوشش تھی تا کہ ابلاغ ہو سکے۔

دریں اثنا فوربز میگزین کی جانب سے دنیا کی طاقتور خواتین میں شمار کی جانے والی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں چلتی ہوا سے گھبرانے والی نہیں اور انہیں اس صورت حال میں کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہے۔ میرکل نے ایک اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رائے عامہ جائزے کے مطابق یہ بہت معمولی سا فرق ہے اور ویسے بھی اچھا مقابلہ تازگی کا باعث ہوتا ہے۔