1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کی جنگ

سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ صوابی، بنی گالا رائزز، ہارون آباد اور پی ٹی آئی کے دھرنے سے متعلق دیگر ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون دونوں کے مابین سوشل میڈیا پر چھائے رہنے کا دلچسپ مقابلہ جاری ہے۔

پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے خیبر پختونخواہ سے اسلام آباد آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی تاکہ مظاہرین کو منتشر کیا جاسکے اور وہ اسلام آباد پہنچنے میں ناکام ہو جائیں۔

صوابی سے پی ٹی آئی کے کارکنان نے سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے لگائے گئے کنٹینرز کی تصاویر شئیر کیں تو مریم نواز شریف اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بتا رہی تھیں کہ صوابی میں آج پی ایم ایل این نے کتنا کامیاب جلسہ کیا۔

پی ٹی آئی کے صوبائی وزیرعلیٰ امین گنڈا پور کی گاڑی سے برآمد ہونے والے اسلحہ سے متعلق ٹوئیٹ کرتے ہوئے سید طلعت حسین نے لکھا،’’ تصور کریں کہ اگر اسلحہ اور غیر قانونی سامان کسی اور سیاسی جماعت کے رکن کی گاڑی سے ملا ہوتا تو کیا ہوتا ؟‘‘

گل بخاری نے لکھا،’’پرویز خٹک شور، ہنگامے اور بد نظمی کی قیادت کر رہے ہیں، کچھ بھی ہو یہ لوگ تاریخ بن جائیں گے۔‘‘

اعجاز نامی ایک صارف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’جو لوگ کہتے ہیں میاں صاحب نے بھی تحریکیں چلائی تھی اس لئے عمران خان تحریک چلا رہا ہے پہلے وہ تحریک اور انتشار کا فرق تو سمجھ لیں۔‘‘ اس ٹوئیٹ کو مریم نواز شریف نے اپنے اکاؤنٹ سے ری ٹوئیٹ بھی کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنان کے خلاف حکومت کے مبینہ کریک ڈاؤن کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹی وی اینکر معید پیرزادہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ پنجاب پولیس کا خیبر پختونخواہ کے چیف منسٹر کو تشدد کا نشانہ بنانا پاکستان کی تاریخ میں ایک انتہائی گرا ہوا عمل ہے۔ ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ 1971ء کا واقعہ کیسے پیش آیا؟‘‘

ثنا بچہء نے لکھا،’’ ہم دہشت گردانہ حملے تو روک نہیں سکتے، ہمارے پاس جرم کو روکنے کے لیے تو کبھی مناسب سکیورٹی نہیں ہوتی لیکن دھرنے کو روکنے کے لیے پوری سکیورٹی موجود ہے۔‘‘

مشرف زیدی نے پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹرعارف علوی کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے پر ٹوئیٹ میں لکھا،’’ انتہائی شرمناک عمل، ڈاکٹر علوی اس ملک کے ایک مہذب منتخب شدہ نمائندہ ہیں، ان کی گرفتاری بالکل غیر ضروری تھی۔‘‘