1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’سوشل میڈیا پر بڑھتی جھوٹی خبریں‘ یورپی سیاستدان چوکنا

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شلس نے کہا ہے کہ ’نقصان دہ جھوٹی خبروں‘ کی روک تھام کے لیے یورپ بھر میں قانون سازی کی جانی چاہیے۔ جرمن حکومت بھی اس تناظر میں ایک مسودہٴ قانون کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شلس اور جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس دونوں نے ہی ’جھوٹی اور جعلی خبروں‘ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے آواز بلند کی ہے۔ اتوار کے دن ان جرمن سیاستدانوں نے مختلف انٹرویوز میں زور دیا ہے کہ فیس بک اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے عام ہونے والے ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا چاہییں، جو جھوٹی خبروں کو عام کر رہے ہیں۔ ایسے پلیٹ فارمز ایسی بے بنیاد اور جھوٹی خبروں کو حقیقی اور مصدقہ قرار دیتے ہوئے عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

امریکی انتخابات میں ’روسی مداخلت‘ کا جواب دیں گے، اوباما

روس نے ٹرمپ کو جتوانے میں مدد کی، واشنگٹن پوسٹ

امریکی الیکشن: روس نے ’نفیس طریقے سے جھوٹی خبریں‘ پھیلائیں

مارٹن شلس اور ہائیکو ماس نے جھوٹی خبروں کی اشاعت اور ان کے پھیلاؤ کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل کے خلاف باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ حکمران سیاسی جاعمت کرسچین ڈیموکریٹک یونین سے تعلق رکھنے والے ہائیکو ماس نے جرمن روزنامے بلڈ ام زونٹاگ سے گفتگو میں کہا، ’’ہمیں ایک باضابطہ قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ امر اہم ہے کہ کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور موجودہ جرمن مخلوط حکومت میں اُن کی ساتھی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) دونوں نے ہی رواں برس جنوری میں اعلان کیا تھا کہ وہ جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کے تدارک کی خاطر قانون سازی کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

Europäisches Parlament in Straßburg - Abschiedsrede Präsident Martin Schulz (Getty Images/AFP/F. Florin)

مارٹن شلس نے زور دیا ہے کہ جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات قومی نہیں بلکہ یورپی سطح پر اٹھانے چاہییں

مارٹن شلس نے زور دیا ہے کہ جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات قومی نہیں بلکہ یورپی سطح پر اٹھانے چاہییں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ غیر ملکی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کی خاطر بے بنیاد خبریں گھڑ سکتی ہیں۔ جرمن سیاست میں واپسی کا عندیہ دینے والے شلس کا مزید کہنا ہے کہ جھوٹی خبریں دراصل بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بھی بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کو ہدف بنانا چاہیے کیونکہ زیادہ تر جھوٹی خبریں ایسی ویب سائٹس کا سہارا لے کر ہی پھیلائی جاتی ہیں۔

سوشل ڈیموکریٹ شلس نے اتوار کے دن فُنک نیوز کنسورشیم کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں تجویز کیا کہ فیس بک کو ایک ہاٹ لائن قائم کرنی چاہیے، جہاں ایسی جھوٹی اور نقصان دہ خبروں کو رپورٹ کیا جائے اور اگر سماجی رابطوں کے حوالے سے مقبول ترین یہ ویب سائٹ فوری طور پر مناسب اقدامات نہ اٹھائے تو اس کے خلاف قانونی قدم اٹھایا جائے۔ شلس کے بقول سوشل میڈیا اور ایسی ویب سائٹس کی بہت زیادہ مقبولیت کے باعث ان پر ذمہ داری بھی زیادہ ہی عائد ہوتی ہے۔

جرمن پارلیمان میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی رہنما تھوماس اوپرمان نے جمعے کے دن جریدے ڈیئر اشپیگل سے گفتگو میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں سخت قانونی کارروائی کا ڈر ہو۔ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ فیس بک اور ایسی دیگر ویب سائٹس رپورٹ کیے جانے کے بعد ایک دن تک جھوٹی اور نقصان دہ خبر کو اپنی ویب سائٹ سے نہ ہٹائیں تو ان پر پانچ لاکھ یورو کا جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔

ویڈیو دیکھیے 02:45

ڈیجیٹل خانہ بدوش کیسے کام کرتے ہیں

امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران بھی ایسے کئی پلیٹ فارمز کے فعال ہونے کا پتہ چلا تھا، جو عوامی رائے کو متاثر کرنے کی خاطر جھوٹی خبروں کی اشاعت میں مصروف تھے۔ ایسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں کہ ری پبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے کی خاطر روسی ماہرین نے ایک حکمت عملی کے تحت ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی تھیں۔

آئندہ برس جرمنی میں بھی عام انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ برلن حکومت کو تحفظات لاحق ہیں کہ اس الیکشن میں بھی جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو پھیلا کر جرمن ووٹروں کی رائے کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ فیس بک پہلے ہی جھوٹی خبروں کو پھیلانے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی شروع کر چکا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic