1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوشل میڈیا مانیڑنگ پالیسی، انسانی حقوق کے کارکنان کو تشویش

سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے حوالے سے پالیسی لانے کے حکومتی اعلان پر انسانی حقوق کی تنظیموں، لبرل اور ترقی پسند حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے کل بروز منگل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے حوالے سے ایک پالیسی بنائے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی کا غلط استعمال کیا جائے گا۔ لیکن نون لیگ اس تاثر کو رد کرتی ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ ظفرالحق نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اس پالیسی کو نون لیگ مخالف عناصر کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

 ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم ایک جمہوری پارٹی ہیں۔ ہم ایسا کیوں کریں گے؟ درحقیقت سوشل میڈیا پر بہت سے عناصر مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں اور معاشرے میں زہریلی سوچ پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو ایسے عناصر کو اس پالیسی کے تحت پکڑا جائے گا۔ یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مضبوط جمہوریتوں میں بھی ایسے قوانین بنائے گئے ہیں۔‘‘


ؒ لیکن ناقدین ان وعدوں سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اسد بٹ نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کو فرقہ واریت اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی خود ریاست حمایت کرتی ہے۔ وہ ان کے خلاف کیوں ایکشن لے گی۔ اس کا استعمال لبرل اور ترقی پسند طبقات کے خلاف ہوگا۔ ہمیں اس پالیسی پر سخت تشویش ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس پالیسی کی وجہ سے معاشرے میں افواہوں کا سلسلہ زور پکڑے گا، جس سے مزید انتشار پھیلے گا۔ جب لوگوں کو بولنے نہیں دیا جائے گا تو تشدد کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگا۔ لہذا ہم حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کی آواز کو نہ دبائے۔‘‘

پاکستان میں درجنوں ممنوعہ تنظیمیں ابھی تک انٹرنیٹ پر سرگرم
معروف سماجی کارکن فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ریاستی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے کے لئے لائی جارہی ہے،’’یہ ریاست ہر شعبے کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ریاست کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرے۔ اس نے سارے شعبوں کو تو پہلے ہی کنٹرول کیا ہوا ہے، اب جو کچھ باقی ہے، اس پر بھی ریاستی ادارے قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے گھٹن کا ماحول بڑھے گا اور تما م پاکستانیوں کو اس طرح کی پالیسیوں کی بھر پور مذمت کرنی چاہیے اور ان کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘

پاڑا چنار سانحہ: ملکی میڈیا میں اہمیت نہ ملنے کی وجہ کوئی سازش؟
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عنایت خاصخیلی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ریاستی اداروں اور ریاست پر ہونے والے تنقید کو روکنے کے لئے لائی جارہی ہے۔ ڈی ڈبلیو کو اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے انہوں نے بتایا، ’’سبین محمود کے قتل سے لے کر وقاص گورایا کے اغوا تک سوشل میڈیا نے بہت متحرک کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ریاست خوفزدہ ہے اور یہاں ریاست سے مراد حکومت اور افسر شاہی بھی ہے، صرف اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں۔ ریاستی اداروں نے میڈیا کو پہلے ہی کنٹرول کر لیا ہے اور اب وہ سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کر کے معاشرے کو جمود کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا اس پالیسی کا شکار نہ صرف لبرل اور پروگریسو حلقے ہوں گے بلکہ چھوٹی قومیتوں کو بھی اس کا نشانہ بنایا جائے گا،’’میرے خیال میں اس پالیسی کو چھوٹی قوموں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ چھوٹی قومیتوں پر ہونے والے مظالم کو میڈیا میں جگہ نہیں ملتی کیونکہ وہ ریاست کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ لہذا قوم پرست سیاسی کارکنان گزشتہ کچھ برسوں سے سوشل میڈیا کو موثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ اب ریاست یہاں بھی ان کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔‘‘
سینیٹر میر کبیر محمد شاہی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حکومت کو اس پالیسی پر بہت محتاط انداز میں عمل کرنا ہوگا اور اس کو کوئی حتمی شکل دینے سے پہلے اسے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنی چاہیے اور ان کے تحفظات دور کرنے چاہیں۔‘‘

DW.COM