1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوشل میڈیا راؤنڈ

اس ہفتے ہیش ٹیگ لاہور، پاناما پیپیرز اور مہاجرت کے حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو کے مضامین کو سوشل میڈیا صارفین نے بہت پسند کیا۔ ڈی ڈبلیو میں کارنیوال تقریبات کی فیس بل لائیو کوریج پر بھی ہمیں بے تحاشہ کامنٹس ملے۔

اس ہفتے پاکستان کے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ لاہور، ہیش ٹیگ گلبر گ اور ہیش ٹیگ لاہور ڈی ایچ ای ٹرینڈ کر رہے تھے۔ 23 فروری کو لاہور میں ایک دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد اس حملے کی متضاد خبریں نشر کی جانے لگیں۔ کچھ میڈیا ہاؤسز نے یہ بھی کہا کہ کہ لاہور کے ہی ایک اور علاقے گلبرگ میں بھی ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔ اس خبر نے لاہور کے شہریوں میں پریشانی کی لہر دوڑا دی۔ اس سارے معاملے میں پنجاب کے وزیر قانون نے کہا کہ انہیں یہ حملہ دہشت گردانہ نہیں لگتا۔ آج پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق یہ حملہ دہشت گردانہ نہیں تھا بلکہ یہ افسوس ناک واقعہ گیس سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صحافی طلعت حسین نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’پنجاب حکومت معلومات فراہم نہ کر کے حالات کو مزید خراب بنا رہی ہے۔‘‘

پی ایس ایل کے حوالے سے صحافی مظہر عباس نے ٹوئٹ میں لکھا، ’’اب جب کے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ لاہور میں ہونے والا حملہ دہشت گردانہ نہیں تھا تو کیا اب پی ایس ایل کا فائنل میچ لاہور میں ہی کھیلا  جانا چاہیے۔‘‘

پی ایس ایل کے حوالے سے ہی نجم سیٹھی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ہے،’’میری وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات ہوئی ہے، ہم لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کرانے پر متفق ہیں لیکن ہم حالات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔‘‘

ہیش ٹیگ پاناما کیس بھی پاکستان میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔ جمعرات کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ میں وکلاء دفاع اور استغاثہ کے دلائل کے اختتام کے بعد سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس کیس کے فیصلے کو محفوظ کر رہے ہیں اور تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے مضمون پر ہمیں کافی کامنٹس ملے۔ فیس بک صارف شارون گل نے لکھا،’’انہیں عدالتوں سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔‘‘ بلال ایوب نے لکھا، ’’مجھے نہیں لگتا یہ عدالت اتنا بڑا فیصلہ کر پائے گی۔‘‘

ڈی ڈبلیو اردو کا مہاجرت کے موضوع سے بھی ایک مضمون بہت زیادہ پڑھا گیا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ لیبیا کے مغربی حصے میں 27 تارکین وطن کی لاشیں ملی ہیں، جن میں سے 13 ایک شپنگ کنٹینر میں دم گھنٹے سے ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل لیبیا کے ساحلوں پر بھی ڈوب کر ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی لاشیں ملی تھیں۔ ایک کنٹینر میں تارکین وطن کو بند کیا گیا تھا اور وہ کئی روز سے اس کنٹینر میں موجود تھے اور اسی کنٹینر کے ذریعے مغربی ساحلی علاقے خُمس پہنچائے گئے تھے۔

امدادی ادارے ہلال احمر کا کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کے خواہش مند تھے۔ اس اسٹوری پر ہمیں موساب درانی نے لکھا،’’يہ جنت کے راہی تھے جو جنت کی خواہش ساتھ  لے کر آخری جہاں چلے گئے۔‘‘ میاں جبار نے لکھا، ’’یہ لوگ اٹلی جانے کے لئے ڈوب گئے، اللہ رحم کرے۔‘‘

جمعہ کے روز ڈی ڈبلیو بون میں کارنیوال کی رنگا رنگ تقریب منعقد کی گئی۔ جرمنی میں سال کا پانچواں موسم کہلانے والے کارنیوال کے تہوار کا ایک قدیم مذہبی پس منظر بھی ہے اور اس کی صدیوں پرانی ایک ثقافتی پہچان بھی ہے۔

کارنیول کی فیس بک لائیو کوریج کو ہمارے صارفین نے بہت پسند کیا۔ نجمہ مسعود نے لکھا، ’’کتنا رنگا رنگ میلہ ہے، ہم بھی آپ کے ساتھ اسے انجوائے کر رہے ہیں۔‘‘ تقدیر گل نے لکھا، ’’بہت اچھا لگتا ہے انسانوں کو خوشیاں مناتے دیکھ کر۔‘‘