1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوشل میڈیا راؤنڈ اپ 

رواں ہفتے پاکستانی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ مریم نواز شریف اور ان سے جُڑے متعدد  ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔ عالمی سوشل میڈیا پر تاہم ہیش ٹیگ جی ٹوئٹی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئیں۔ مریم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاندان پر عائد الزامات کو مسترد کر دیا۔ مریم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کی لیکن انہوں نے کسی صحافی کے سوال کا جواب نہیں دیا جس پر پاکستانی صحافیوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ٹوئٹر کے صارف حسن خان نے لکھا،’’ اگر وہ میڈیا کے سوالات نہیں لے سکتیں تو انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جوابات کیسے دیے ہوں گے۔‘‘ دوسری جانب مریم نواز شریف کی گفتگو کے انداز کی تعریف بھی کی گئی۔ صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ایک بہادر خاتون دھمکی دے رہی ہے۔ مریم نواز شریف نے  جے آئی کو اپنی فیور میں استعمال کیا۔‘‘

سوشل میڈیا پر کئی سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے بے نظیر بھٹو کی وہ تصاویر شیئر کیں جن میں وہ جیل کے باہر کھڑی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے اپنی کئی برس پرانی تصویر شئیر کی جس میں وہ پولیس وین میں بیٹھی ہوئی ہیں اور لکھا کہ میں بھی تو کسی کی بیٹی تھی۔

مریم نواز شریف جب جوڈیشل اکیڈمی کے باہر گاڑی سے اتریں تو ایک خاتون پولیس افسر نے انہیں سیلوٹ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹ میں لکھا،’’ ناقابل یقین، ایک پرائیویٹ شہری مریم کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا پولیس اسے سیلوٹ کر رہی ہے جبکہ  وہ ایک مجرمانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہوئی ہیں۔‘‘

 پاکستان کی ایک صحافی مونا خان نے سوشل میڈیا پر نوجوان افسر کو تنقید بنائے جانے پر برہم ہوتے ہوئے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر گود میں لیپ ٹیپ یا سمارٹ فون سے سوشل میڈیا پر کسی کی غلطی پر بغیر اسکا موقف سُنے سزا سُنا دینا ہماری قوم کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ‘‘

سوشل میڈیا صارف احمد بلال خالد نے اس حوالے سے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ غلطی یہ ہے کہ ایک پولیس افسر ایک ایسی سویلین خاتون کو سیلوٹ کر رہی ہے، جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔‘‘

ایک سابق فوجی افسر  نے اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ، ’’میرے علم کے مطابق کسی خاتون کو سیلوٹ کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ سیلوٹ یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں کی طرف سے سلام کرنے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر اتنی زیادہ تنقید کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز شریف نے اپنی تصویر شیئر کی جس میں وہ خواتین پولیس اہلکاروں کو سیلوٹ کر رہی ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ مریم نواز شریف نے لکھا،’’ ہم اپنی بیٹیوں کو سیلوٹ کرتے ہیں نہ کہ ان کے عہدوں کو۔ اگر وہ آپ کی عزت کرتے ہیں تو آپ ان کی عزت کریں۔ سارے سیلوٹ  پروٹوکول نہیں ہوتے۔ عزت دل سے کی جاتی ہے۔‘‘

رواں ہفتے سوشل میڈیا کی ایک صارفہ  نے پی آئی اے کی ایک ائیر ہوسٹس کی تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس تصویر میں یہ ایئر ہوسٹس غصے میں نظر آرہی ہیں۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر کافی زیادہ مرتبہ شئیر کی گئی۔ سوشل میڈیا پر ہی اس خاتون ائیر ہوسٹس کے حق میں مہم  چل پڑی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ کسی خاتون کو اس کی عمر کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنانا انتہائی غیر مہذب عمل ہے۔

پی آئی اے نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسی ائیر ہوسٹس کی تصویر شائع کی اور لکھا کہ اسی چہرے کے ساتھ فضاؤں میں مسکراہٹ بکھیری جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے اس اقدام کی سوشل میڈیا پر کافی تعریف کی گئی۔ فیس بک صارف دانیال رضوی نے لکھا،’’ پی آئی میں بہت کچھ غلط ہوگا لیکن یہ خاتون ائیر ہوسٹس اس کا حصہ نہیں ہیں۔‘‘

پی آئی کے فیس بک صفحے پر ایک صارف عادل انصاری نے لکھا،’’ ایک مرتبہ اسی خاتون ائیر ہوسٹس کے ساتھ پی آئی کے ایک جہاز میں اسلام آباد سے کراچی سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس جہاز میں اے سی نہیں چل رہا تھا اور گرمی سے مسافروں کا برا حال تھا لیکن اس ائیر ہوسٹس نے مسافروں کو پانی، جوس وغیرہ پیش کیا۔ سینیئر ہو کر بھی وہ اپنے پیشے سے انتہائی مخلص ہیں۔

دوسری جانب ترقی یافتہ اور ابھرتی اقتصادیات کے حامل بیس ملکوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کا سربراہ اجلاس آج جمعہ سات جولائی سے جرمن شہر ہیمبرگ میں شروع ہو گیا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں ہیش ٹیگ جی ٹوئنٹی ٹرینڈ کر رہا ہے۔