1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوشل میڈیا راؤنڈ اپ

رواں ہفتے پاناما جے آئی ٹی، ہیش ٹیگ لندن فائر، ہیش ٹیگ کرکٹ، پاکستان بمقابلہ انگلینڈ اور ہیش ٹیگ پاکستان بمقابلہ بھارت ٹرینڈنگ موضوعات تھے۔

اس ہفتے سوشل میڈیا پر پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، پاکستان بمقابلہ ساؤتھ افریقہ، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے تھے۔ پاکستان ساؤتھ افریقہ اور انگلینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ چکا ہے۔ اب اتوار کو پاکستان کا مقابلہ ہو گا بھارت سے۔ ایسا نو سال بعد ہو رہا ہے کہ روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کسی ایک روزہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں ايک دوسرے کے مدِ مقابل آئے ہوں۔

سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ پاکستان بمقابلہ انڈیا ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ٹوئٹر صارف ذاکر شاہ نے ٹوئٹ میں لکھا ہے،’’ مجھے یقین ہے اس مرتبہ پاکستان فائنل جیت جائے گا۔‘‘ سوشل میڈیا پر بولی وڈ کے نامور اداکار رشی کپور کی کچھ ٹوئٹس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ رشی کپور نے  ٹوئٹ میں لکھا،’’ پاکستان مبارک ہو۔ تم فائنل میں پہنچ گئے ہو لیکن ہم تمہیں ہرا دیں گے۔‘‘

اس ٹوئٹ پر رشی کپور سے پاکستانی کرکٹ کے مداح بہت ناراض ہوئے۔ اس کے بعد رشی کپور نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا،’’ پاکستان کرکٹ بورڈ ،کرکٹ ٹیم بھیجنا۔ پہلے ہاکی یا کھو کھو ٹیم بھیجی تھیں۔ کیوں کہ اٹھارہ جون جس دن فاردرز ڈے ہے اس دن باپ کھیلے گا تمہارے ساتھ۔‘‘

اس ٹوئٹ کے بعد پاکستانی کرکٹ فینز نے بہت غصہ کیا اور بہت بحث مباحثہ کیا۔ لیکن بات یہاں نہیں رکی۔ رشی کپور نے ایک ٹوئٹ میں لکھا،’’ تم لوگ جیتو اور ہزاروں بار جیتو صرف دہشت گردی بند کر دو یار، مجھے ہار منظور ہے۔‘‘

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم پاناما لیکس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ سوشل میڈیا پر جہاں وزیر اعظم کے اس قدام کو سراہا گیا تو کئی افراد نے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ’کرائم منسٹر شریف‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے تو اسی کے مقابلے میں کئی افراد ہیش ٹیگ ’نوازشریف از مائی پرائڈ‘ استعمال کر کے نواز شریف کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

فیس بک کی صارف گلالئی اسماعیل نے فیس بک پر لکھا،''میں پاکستان کے منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہوں نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے وزیراعظم اور ملک کے ایک ایسے صدر میں کیا فرق ہوتا ہے جس نے طاقت کے زور پر ملک کی صدارت حاصل کی ہو۔‘‘ 

ایک  فیس بک صارف ثنا اعجاز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا،’’ ہمیشہ سویلین حکومت کے نمائندگان عدالتوں  کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ آمر کبھی بیمار ہو جاتے ہيں، کبھی ملک سے فرار ہوجاتے ہیں اور پھر اپنی رقص کرتے ہوئے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں۔‘‘

اب ایک اور ہیش ٹیگ کا ذکر کرتے ہیں۔ برطانوی دارالحکومت لندن کی ایک ستائیس منزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔ حکام کے مطابق اس حادثے میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ لندن فائر استعمال کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گيا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے ٹوئٹ میں لکھا،’’ سن 2017 میں ایک اپارٹمنٹ  میں سوتے ہوئے لوگ ہلاک ہو جائیں ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

اس حادثے میں بہت سے مسلمانوں نے بھی متاثرین کی مدد کی اور ان کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا۔

DW.COM