1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوشل میڈیا راؤنڈ اپ

پارا چنار میں دہشت گردانہ واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ پارا چنار ٹرینڈ کرتا رہا۔ رواں ہفتے عالمی سطح پر ہیش ٹیگ بریگزٹ کو استعمال کرتے ہوئے بھی سوشل میڈیا پر کافی بحث و مباحثہ دیکھنے کو ملا۔

پاکستانی قبائلی علاقے کُرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم چوبیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دھماکے میں اسی سے زائد افراد زخمی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دھماکا پارا چنار کے مرکزی علاقے میں واقع ایک امام بارگاہ کے دروازے پر ہوا۔

اس افسوس ناک واقعہ کے بعد پاکستان میں ہیش ٹیگ پاراچنار استعمال کرتے ہوئے کئی افراد نے اس واقعہ کی مذمت کی۔ صحافی اور پارا چنار کے رہائشی علی حسین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤئٹ پر لکھا، ’’ اس علاقے کا رہائشی ہونے کے باوجود مجھے پارا چنار میں داخل ہونے کے لیے کئی مرتبہ ثبوت دینے پڑتے ہیں اور چیکنگ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔  سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیسے بارودی مواد سے بھری گاڑی پارا چنار میں داخل ہوئی۔‘‘

سوشل میڈیا صارف نوید حسین نے لکھا، ’’ملک کے وزیر اعظم کو سعودی عرب سے پہلے اپنے ملک میں سکیورٹی کا خیال کرنا چاہیے۔‘‘

کرن نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا، ’’ ایک اور حملہ، مزید معصوم جانوں کا ضیاع، یہ ظاہر کرتا ہے کہ مکمل طور پر امن نہیں آیا، جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘‘

سوشل میڈیا پر ہی ایک صارف نے لکھا، ’’امن کا حصول تب تک ممکن نہیں ہے جب تک حکومت مذہب اور عقیدے کے نام پر نفرت پھیلانے والے عناصر کو نہیں روکے گی۔‘‘

پارا چنار میں بم دھماکا، کم از کم چوبیس ہلاک

عبالستار ایدھی کے لیے یادگاری سکہ جاری کرنے کا فیصلہ

برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر متوازی بات چیت نہیں ہو سکتی، میرکل

سوشل میڈیا پر رواں ہفتے ہیش ٹیگ ’ایدھی‘ بھی ٹرینڈ کر رہا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاکستان کے نامور فلاحی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام پر پچاس روپے کا ایک خصوصی سکہ جاری کیا گیا ہے۔  فیس بک صارفین رسول میر، بلال احمد، محمد شریف، چوہدری عرفان علی اور محمد عمیق نے اسے ایک اچھا اقدام ٹہرایا۔

اسی ہفتےترکی میں پاکستانی صحافی اور ڈی ڈبلیو کے نمائندے عبدالشکور رحیم نے  مہاجرت کے حوالے سے  ہمیں ایک رپورٹ بھیجی۔ اس رپورٹ میں انہوں نے بتایا کہ ہزاروں پاکستانی تارکین وطن  گھر سے تو یورپ جانے کے لیے نکلے تھے لیکن راستے بند ہونے کے باعث وہ ترکی میں رکنے پر مجبور ہیں۔

 عبدالشکور اس رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ اب استنبول کے مختلف حصوں میں گھومتے ہوئے کسی نہ کسی ایسے پاکستانی سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے جو ترکی آیا تو یورپ جانے کے لیے تھا، لیکن اب اسے یہیں قیام کرنا پڑ رہا ہے۔  پاکستان ایمبیسی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف استنبول میں ایسے پاکستانیوں کی تعداد اندازوں کے مطاابق آٹھ سے دس ہزار کے درمیان ہے۔

ایک اور ہیش ٹیگ جو عالمی سطح پر ٹرینڈ کرتا نظر آیا وہ ہیش ٹیگ بریگزٹ تھا۔ برطانوی وزیراعظم ٹیریزا مے نے اس ہفتے  اس تاریخی دستاویز پر دستخط کر دیے جس کی رُو سے اب برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کا سلسلہ شروع ہو سکے گا۔ اس مضمون پر ہمیں خان احمدزئی نے لکھا،’’ یہ بہت برا ہوا، کاش ایسا نہ ہوتا۔‘‘

DW.COM