1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سوسیجز اور نوڈلز سے دوبارہ لطُف اندوز ہوا جا سکتا ہے

برلن منعقدہ عالمی زراعتی میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں صارفین کا اعتماد بحال کرنے میں واضح کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

default

جرمنوں کی مرغوب غذا

جرمن دارالحکومت برلن میں جاری ہفتہ سبز کل یعنی اتوار کو اختتام پذیر ہوگا۔ اس مرتبہ اس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہوا، جب جرمنی میں جانوروں کی خوراک میں زہریلے مادے ڈائی آکسن کی موجودگی ثابت ہونےکے بعد ایک ہزار سے زائد پولٹری فارمز بند کر دیے گئے۔ جرمن زراعتی صنعت کو گرچہ خاصی دشواریوں کا سامنا رہا تاہم برلن منعقدہ عالمی زراعتی میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں صارفین کا اعتماد بحال کرنے میں واضح کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

Flash-Galerie Grüne Woche 2011 Polen

گرین ویک کھانے پینے کے شوقین افراد کے لئے نہایت دلچسپ ایونٹ ہوتا ہے

جرمنی میں نہ صرف پولٹری فارمز بند کر دئے گئے بلکہ ہزاروں مرغیاں بھی تلف کی جا چکیں جس سے جرمنی کی اشیائے خورد و نوش کی صنعت کو بحران کا سامنا ہے۔ ایسے میں برلن میں ہفتہ سبز کا انعقاد نہایت اہم تھا تاکہ صارفین میں پائے جانے والے اُس خوف کو دور کیا جا سکے، جو ڈائی آکسن اسکینڈل کے سبب پیدا ہو گیا ہے۔

جرمن کسانوں کی فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ’ہیلموٹ بورن‘ کے بقول ’ ہم صارفین کا اعتماد بحال کرنا چاہتے تھے اور اس میں ہمیں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انڈوں، مرغیوں اور خنزیر کے گوشت کی تیزی سے گرتی ہوئی مانگ اور قیمتیں جلد ہی گزشتہ کرسمس سے پہلی والی سطح پر پہنچ جائیں گی۔

Grüne Woche Berlin 2011 Flash-Galerie

ہفتہ سبز میں افغانستان کا اسٹینڈ

برلن میں ہر سال گرین ویک یا ہفتہ سبز جرمنی سمیت دنیا بھر کے اشیائے خوردو نوش کا کاروبار کرنے والوں کو ایک انوکھا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کو لاکھوں صارفین کے سامنے رکھ سکیں۔ برلن کا ہفتہ سبز دراصل دنیا کا سب سے بڑا زراعی میلہ ہے۔ اس میلے میں اس سال اب تک تین لاکھ افراد جا چکے ہیں جبکہ منتظمین دس روز پر محیط اس بار کے ہفتہ سبز کے اختتام تک اس کا وزٹ کرنے والوں کی تعداد کم ازکم چار لاکھ ہونے کی امید کر رہے ہیں۔

برلن کی سب سے بڑی نمائش گاہ میں منعقد اس میلے میں دنیا کے ہر خطے کی غذائی ثقافت کے علاوہ موسیقی اور دست کاری کے انوکھے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

Grüne Woche 2011 Flash-Galerie

امسالہ گرین ویک میں جانوروں کو چارہ کھلاتے ہوئے بھی پیش کیا گیا

اس مرتبہ ہفتہ سبز میں شامل تمام نمائش کنندگان کو اپنی اپنی مصنوعات کی نمائش کے دوران عوام کی طرف سے سخت سوالات کے جواب بھی دینا پڑے اور انہیں بہت سے صارفین کی کڑی تنقید بھی سننا پڑی۔ خاص طور سے جرمن کسانوں اور زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والوں کو، کیونکہ ڈائی آکسن اسکینڈل سامنے آنے کے بعد لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اس زہریلے مادے سے آلودہ انڈوں کو پھینکنے کے بجائے ان سے تیار کردہ نوڈلز اورخراب گوشت، جس کے استعمال کی تاریخ بھی نکل چُکی ہو، کیا کچھ استعمال کے لئے نہیں مل رہا ۔ صارفین کی طرف سے احتجاج اور غصے کا اظہار حق بجانب تھاکیونکہ جب جانوروں کے ذبیحہ خانوں کے فُضلے میں مصنوعی ذائقہ دار کیمیائی مادے ملا کر سوسجز تیار کئے جائیں اور صارفین کو اس ذائقہ دار مہلک شے کھانے کی ترغیب دلائی جائے تو اس عمل کے پیچھے مجرمانہ نیت کے سوا اورکچھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم جرمنی میں اس سلسلے میں سخت اقدامات کیے گئے، جس کے بعد اشیائے خوردونوش کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے ان کی چھان بین اور جانوروں کو کھلائے جانے والے چارے کا معائنہ بہت سخت کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس