1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوزن رائس پاکستان میں، حقانی نیٹ ورک پر بھی گفتگو

امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے آج پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے بیرون ملک مبینہ حملوں پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس ایشیا کے دورے پر ہیں، جہاں ان کی پہلی منزل چین تھی۔ آج اسلام آباد کا ایک روزہ دورہ وہ ایک ایسے وقت میں کر رہی ہیں، جب یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ آیا امریکا پاکستان کے لیے تین سو ملین ڈالر کی فوجی امداد جاری کرے گا یا نہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اگر امریکا اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف ناکافی اقدامات کر رہا ہے تو اس کو ممکنہ طور پر ملنے والی فوجی امداد روکی بھی جا سکتی ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کی معلومات کے مطابق یہ گروپ افغانستان میں ہونے والے بڑے اور خونریز حملوں میں ملوث ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے نیوز ایجسنی روئٹرز کو بتایا، ’’رائس باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کریں گی جبکہ پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے حملوں سے متعلق بھی اپنی تشویش سے آگاہ کریں گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سوزن رائس کے اس دورے کا پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھنے والی حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قبل ازیں ایسی خبریں منظر عام پر بھی آئی تھیں کہ یہ ایمرجنسی دورہ پاکستان اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر سوزن رائس کے اس ایک روزہ دورے میں پاکستانی وزیراعظم کے اکتوبر میں طے شدہ دورہ امریکا کے معاملات بھی طے کیے جائیں گے۔

تاہم امریکا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کو واپس مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ویک اینڈ پر پاکستان اور بھارت کے مابین امن مذاکرات ہونا طے تھے، جنہیں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر چکی ہیں جبکہ آج شام وہ پاکستانی آرمی چیف آف سٹاف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کریں گی۔ وزیراعظم نواز شریف کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ڈاکٹر رائس نے پاکستان کی ان قربانیوں کی انتہائی تعریف کی ہے، جو دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کی جانے والے کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے دی گئی ہیں۔‘‘ جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کے مستقبل پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوزن رائس نے طالبان قیادت کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے سلسلے میں بھی پاکستانی حکام سے بات چیت کی ہو گی کیونکہ امریکا بھی کابل حکومت اور طالبان کے مابین ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستانی مدد حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان امن مذاکرات کا مقصد افغانستان میں جاری چودہ سالہ جنگ کا خاتمہ کرنا بتایا گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مذاکرات کا یہ سلسلہ اس وقت منقطع ہو گیا تھا، جب طالبان کے سابق رہنما ملا عمر کے انتقال کی خبریں سامنے آئی تھیں۔