1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سورج کے ’’خاموش دورانیے‘‘ کی وضاحت

سورج سے متعلق طبیعات کے ماہرین کے مطابق سورج پر طویل دورانیے سے جاری کمزور تعاملاتی عوامل اور ان کی وجوہات کی وضاحت جلد ہی متوقع ہے۔

default

’’سولر منیمم‘‘ کہلانے والی سورج کی اس کمزور سرگرمی کا آغاز دسمبر دوہزار آٹھ میں ہوا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج کی تیز یا سست سرگرمی کا عمومی دورانیہ تقریبا ساڑھے بارہ برسوں پر محیط ہوتا ہے تاہم یہ دو سو برسوں تک پر بھی پھیل سکتا ہے۔ کمزور سرگرمی کی وجہ سے سورج کی سطح پر سیاہ دھبے بنتے ہیں تاہم جب سورج کی تیز سرگرمی کا دور شروع ہوتا ہے، تو دھبے بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔

Oberfläche der Sonne

سورج پر جاری تعاملاتی عمل کی ایک تصویر

نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق سورج اس وقت اپنی سست تعاملاتی سرگرمی کے دور سے گزر رہا ہے اور معمول سے طویل اس سست سرگرمی کے دور کے باعث سورج کی سطح سے آگ کی لہروں کی ساتھ بار کے حامل ذرات بھی نکل رہے ہیں۔

جیوگرافیکل ریسرچ لیٹرز نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ ڈاکٹر ماؤسومی دیکپتی اور ان کے امریکی سائنسدان ساتھیوں کی تحقیق پر مبنی ہے۔ سورج کی سطح کے معائنے اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو سن 1755ء سے محفوظ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس ڈیٹا کے مطابق اب تک سورج پر سست اور تیز سرگرمی کے 24 ادوار دیکھے گئے ہیں۔ ان میں سے سب سے قلیل مدت 10.7 برسوں کی تھی۔ سورج کی سرگرمی کا 23 واں دور سن 2008ء میں مکمل ہوا تھا اور یہ تیز سرگرمی کا دور تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج کی سطح پر پیدا ہونے والے سیاہ دھبے دراصل طاقتور مقناطیسی قوت کے باعث دکھائی دیتے ہیں اور اسی مقناطیسی قوت سے سورج پر موجود فیوژن یا عمل ایتلاف کو مزید تقویت ملتی ہے۔

واضح رہے کہ زمین پر دیکھی جانے والی ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بھی سورج کی سطح پر جاری عوامل سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کرہء ارض پر ظہور پزیر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سورج پر جاری تعاملاتی سرگرمیوں سے بھی یقینی طور پر تعلق موجود ہے۔ ابھی حال میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ براعظم یورپ میں طویل اور سخت سردی کی ایک وجہ سورج پر جاری سست تعاملاتی عمل ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس