1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سورج کی سرگرمی میں متوقع اضافہ اور مضر اثرات

خلائی تحقیق میں مصروف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں سورج کی سرگرمی میں اضافہ متوقع ہے، جس سے سورج کی سطح پر بڑے بڑے طوفان اٹھنے کا خدشہ ہے۔

default

ان شمسی طوفانوں سے زمین پر موجود الیکٹرانک آلات اور خلا میں موجود مصنوعی سیاروں پر خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انہی اثرات کا جائزہ لینے اور ان کے تدارک پر غور کرنے کے لیے حال ہی سورج پر تحقیق کرنے والے کئی نامور سائنسدان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جمع ہوئے۔

شمسی طوفان دراصل سورج کی سطح پر موجود مخصوص حصوں، جنہیں ’سن سپاٹس‘ کہا جاتا ہے، کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں اور یوں سورج کی سطح پر بڑے بڑے شعلے اٹھتے ہیں۔ اس دوران برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ چارجڈ پارٹیکل جدید الیکٹرانک آلات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج کی اس سرگرمی میں اضافہ عمومی طور پر ہر 11 برس بعد ہوتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ لمبے عرصے کے بعد اس سرگرمی میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ناسا کے سورج سے متعلق تحقیق مرکز یعنی ہیلیوفزکس ڈویژن کے سربراہ رچرڈ فشر کا کہنا ہے کہ سورج ایک لمبی غنودگی کے بعد بیدار ہو رہا ہے اور اگلے چند سالوں میں شمسی سرگرمی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ فشر کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ اس دوران تیار کی جانے والی ہماری ترقی یافتہ ٹیکنالوجی شمسی طوفانوں سے بہت زیادہ متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دو خطرات کا یکجا ہوجانا دراصل وہ مسئلہ ہے جس پر غور کے لئے سائنسدان جمع ہوئے ہیں۔

Raumsonde SMART-1 in Mondumlaufbahn

سائنسدانوں کے مطابق شمسی طوفان زمین پر موجود حساس الیکٹرونک آلات کے علاوہ خلا میں موجود مصنوعی سیاروں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اکیسویں صدی میں رہنے والے لوگ عام طور پر ہائی ٹیک نظاموں پر انحصار کرتے ہیں لیکن سائنسدانوں کے مطابق بجلی کی ترسیل کے لئے بنائے گئے سمارٹ گرڈز، گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے ذریعے مختلف مقامات کا پتہ چلانے والا نیویگیشن سسٹم، فضائی سفر اور رابطوں کے لئے ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم، تمام کے تمام اس شمسی سرگرمی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔سال 2008ء میں امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک بڑا شمسی طوفان کاترینا نامی سمندری طوفان سے 20 گنا زیادہ تباہی لاسکتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ اگر اس بات کا پہلے سے ہی پتہ چل جائے کہ شمسی طوفان آنے والا ہے تو زیادہ تر نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اب شمسی موسم کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کے بارے میں قبل از وقت درست پیشین گوئی کرنا بہت زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسی صورت میں مصنوعی سیاروں کو ’سیف موڈ‘ میں کر دینے اور بجلی کی سپلائی کے لئے موجود ٹرانسفارمرز کو بند کر دینے کے ذریعے الیکٹرانک آلات کو پہنچنے والے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔

امریکی ریاست کولوراڈو میں قائم سمندری اور فضائی تحقیقی ادارے نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے ڈائریکٹر تھامس بوگڈان کا کہنا ہے کہ خلائی موسم کی پیشین گوئی کا شعبہ ابھی بہت ہی ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اس میں تیزی سے ترقی جاری ہے۔ بوگڈان کے مطابق NASA اور NOAA مل کر ایسے مصنوعی سیاروں پر کام کر رہے ہیں، جو سورج پر نظر رکھتے ہیں اور اس پر آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پیشین گوئی کرنے میں معاون ہوں گے۔ اس سلسلے میں دو مصنوعی سیارے پہلے ہی خلا میں موجود تھے جبکہ تیسرا اسی برس کے اوائل میں یعنی فروری میں خلا میں چھوڑا گیا تھا۔

فشر بوگڈان کے مطابق ہم اب اس دور کے نقطہء آغاز پر ہیں جب خلائی موسم بھی ہماری زندگیوں پر اسی طرح سے اثر انداز ہوگا جیسے زمینی موسم۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM