1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

سورج سے کہیں زیادہ روشن ستارے کی دریافت

اس وسیع وعریض کائنات میں زمین اور نظام شمسی سے باہر سورج سے بڑے اور زیادہ روشن ستاروں کی دریافت برسوں سے جاری ہے۔ اس حوالے سے ایک نئے ستارے کی دریافت خاصی حیران کن ہے، جو سورج سے دو کروڑ گنا زیادہ روشن ہے۔

default

جنوبی امریکی ملک چلی میں نصب انتہائی بڑی فلکیاتی دوربین کے ذریعے سائنسدانوں نے خلا میں، بہت ہی دور ایک بہت زیادہ روشن ستارے کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ ستارہ نظام شمسی کے مرکز سورج سے بیس ملین گنا زیادہ روشن ہے۔ ابتدائی طور شناخت کے بعد سائنسدانوں نے اس ستارے کو R136a1 کا نام دیا ہے۔

نو دریافت شدہ ستارے R136a1 کا وجود سورج سے 320 گنا زیادہ ہے۔ اس نئے ستارے کی کمیت پہلے سے دریافت شدہ سورج سے بڑے ستارے کی کمیت سے دو گنا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عظیم الجثہ اور انتہائی روشتن ستارہ R136a1 اگر کسی وجہ سے نظام شمسی کا مرکز یا سورج کی جگہ حاصل کر لے تو زمین پر انسانوں سمیت ہر قسم کی حیات اور نباتات نابود ہو کر رہ جائیں گی کیونکہ نئے ستارے سے الٹرا وائلٹ شعاعوں کا اخراج بہت زیادہ ہے۔

سورج سے کہیں زیادہ بڑے ستارے R136a1 کی دریافت کرنے والی ٹیم کے سربراہ شمالی انگلینڈ کی شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پال کروتھر ہیں۔ ان کے ہمراہ فلکیاتی علم کے ماہرین کی ایک ٹیم بھی شریک تھی۔ اس ٹیم میں انگریز ماہرین کے ہمراہ جرمن اور ملائشیائی سائنسدان بھی شامل ہیں۔ پروفیسر کروتھر کا اس ستارے کی دریافت کے

Sonne mit Magnetfeld

یہ ستارہ سورج کی جگہ لے لے تو زمین پر ہر چیز تباہ ہو سکتی ہے

حوالے سے کہنا ہے کہ انسانوں کے برعکس افلاک میں جنم لینے والے ستارے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کے وزن میں مسلسل کمی کا شکار رہتے ہیں اور حتیٰ کہ ایک دن وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ پروفیسر کروتھر کا مزید کہنا ہے کہ نیا روشن ستارہ R136a1 اس وقت اپنی وسطی عمر میں ہے اور اس کے وزن میں بہت تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

دور دراز کی خلائی حدود میں مطالعہ کے لئے نصب انتہائی بڑی ٹیلی سکوپ چلی کے شمال میں اتاکاما صحرا میں نصب کی گئی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اتاکاما کا صحرائی علاقہ سطع مرتفع کی ہیئت کا ہے۔ یہ زمین کا خشک ترین حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا منتظم ادارہ یورپین سدرن آبزرویٹری (ESO) ہے۔ یہ فلکیاتی مرکز اتاکاما کے پارانل پہاڑی (Paranal Observatory) چوٹی پر واقع ہے۔ اس کے عدسے کا قطر آٹھ میٹر ہے۔ زمین سے فلم میں دیکھنے کے حوالے سے اس دوربین کو سب سے بڑی آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس