1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوتیلی بیٹی سے برسوں تک جنسی زیادتی: سزا ایافتہ مجرم کی اپیل

اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ سالہا سال تک جنسی زیادتی کے نتیجے میں آٹھ بچوں کا باپ بننے والے جرمن باشندے نے خود کو سنائی جانے والی سزا کے خلاف اپیل کر دی ہے۔

default

ڈیٹلیف ایس کی عدالت میں موجودگی کےدوران لی گئی ایک تصویر

یہ بات برلن سے آمدہ رپورٹوں میں خبر ایجنسی اے پی نے بتائی ہے۔ آج بدھ کو جرمن شہر کوبلینس میں ایک صوبائی عدالت کے ترجمان الیکسانڈر والٹر نے تصدیق کر دی کہ اس جرمن شہری کے وکیل نے متعلقہ عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے۔

Symbolbild Priester Homosexualität Kirche

جرمنی میں کچھ عرصہ پہلے کلیسائی اداروں میں برس ہا برس تک بچوں سے جنسی زیادتیوں کے بہت سے واقعات کا انکشاف بھی ہوا تھا

اس جرمن باشندے کا نام ڈیٹلیف ایس ہے۔ اسے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے 162 الزامات میں مجرم قرار دے دیا گیا تھا۔ مجرم پیشے کے اعتبار سے ٹرک ڈرائیور ہے۔ اس پر یہ الزام بھی ثابت ہو گیا تھا کہ وہ اپنی اس بیٹی کو ایسے دوسرے مردوں کے پاس بھی لے کر جاتا رہا تھا، جو اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے تھے۔

اس اپیل کی سماعت اب وفاقی عدالت انصاف کرے گی، جو فوجداری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے لیے جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ ڈیٹلیف کو گزشتہ ہفتہ ساڑھے چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ سزا پوری ہونے کے بعد بھی مجرم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھا جائے۔ عدالت نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ مجرم کی طرف سے ایسے جرائم کے دوبارہ ارتکاب کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

وکیل صفائی نے اس مقدمے میں Detlef S. کوساڑھے نو سال سزائے قید سنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس شخص نے جنسی زیادتی کا سلسلہ 1987 میں شروع کیا تھا جو سن 2010 تک جاری رہا تھا۔ ڈیٹلیف نے اپنے سوتیلے بیٹے اور سوتیلی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اس وقت شروع کی تھی جب ان کی عمریں صرف چار اور چھ برس تھیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس