1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوات میں یوتھ ایوارڈ کا انعقاد

سوات کی حسین وادی میں پاکستان کے سب بڑے یوتھ ایوارڈ ’اینوویٹیو یوتھ ایوارڈز‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سینکڑوں مندوبین شریک ہوئے۔ کُل آٹھ شعبوں میں ملک کے معروف افراد کو ایوارڈز دیے گئے۔

اینوویٹیو یوتھ فورم کی جانب سے منعقد کردہ یوتھ ایوارڈز کا انعقاد سوات کے ودودیہ ہال میں کیا گیا تھا، جس میں ملک بھر سے سماجی کارکنان، صحافیوں، دانشوروں، سائنس دانوں، شاعروں، نوجوانوں اور خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اینوویٹیو یوتھ فورم کے چئیر مین ڈاکٹر جواد اقبال نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے سب سے بڑے یوتھ ایوارڈز ہیں، جس کا مقصد ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جواپنے شعبے میں نئی جدت کے ساتھ کام کرتے ہیں اور لوگوں کی فلاح کا باعث بنتے ہیں۔ ’’ایوارڈزکے لئے دنیا بھر سے دو ہزار سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائی تھیں، جس میں صرف آٹھ افراد کو ایوارڈز دئے گئے۔ ان کا چناؤ ایک تجربہ کار کمیٹی کے زریعے کیا گیا۔‘‘

تقریب میں صوبے کے نامور گلوکاروں نے بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ پشاور کی گلوکارہ گل سانگہ اور دل راج کے گیتوں نے ہال میں موجود شرکاء کو ناچنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے کرکٹ اسٹار عمران خان جونئیر نے بھی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے کہ ملک کے سب سے بڑے یوتھ ایوارڈز سوات میں منعقد ہو رہے ہیں: ’’یہ ایوارڈز ان لوگوں کے لیے حوصلہ افزاء ثابت ہوں گے جو اس ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اور ایوارڈ ملنے کے بعد وہ مزید محنت اور جوش سے کام کریں گے۔‘‘

اینوویٹیو یوتھ ایوارڈز کل آٹھ شعبوں میں بہترین کار کردگی دکھانے والے افراد کودیے گئے، جن میں سوشل آرٹسٹ کا ایوارڈ مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے بلال الدین کو دیا گیا۔ اسی طرح ینگ لیڈر کا ایوارڈ لاہور سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن ماریہ ملک کو دیا گیا۔ چینج میکنگ سوشل ایکٹویسٹ کا ایوارڈ پشاور کی ثناء اعجاز، پیشنیٹ ٹیچر کا ایوارڈ نوشہرہ کے سلیم اختر، آؤٹ اسٹیڈنگ ریسرچر کا ایوارڈاسلام آباد کے محمد الیاس، اینوویٹیو اینشیٹیو کا ایوارڈ اسلام آباد کے فہد زیب، پیس آنٹر پرینورکا ایوارڈ سوات کے حاجی زاہد خان، اور بہترین صحافی کا ایوارڈ سلیم صافی کو دیا گیا۔

تقریب میں ینگ لیڈر کا ایوارڈ جیتنے والی لاہور کی ماریہ ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ ان کے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ انہوں نے جو کام کیا آج اُسے سراہا جا رہا ہے۔ ’’میرا یہ ایوارڈ ان سب لوگوں کے نام ہے جنہوں نے میرا ساتھ دیا۔ اب میں مزید محنت اور لگن کے ساتھ اپنے مشن اور مقصد کے لئے کام کروں گی۔‘‘

اینوویٹیو یوتھ ایوارڈز سوات میں دوسری دفعہ منعقد ہورہے ہیں۔ اس سے پہلے2014میں بھی ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا تھا۔ امریکا کی انٹر نیشنل ریکارڈنگ آرٹسٹ ہیتھر اشمد نے بھی ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ نوجوانوں کے لیے ایوارڈ کا انعقاد خوبصورت علاقے سوات میں کیا جا رہا ہے۔ ’’میں اپنی طرف سے تمام جیتنے والوں کو مبارک باد دیتی ہوں، اور امید رکھتی ہوں کہ یہ ایوارڈ ان کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لائیں گے۔‘‘

وادی سوات میں منعقدہ اس تقریب میں دو ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ ڈاریکٹر جنرل یوتھ افئیرز ارشد حسین نے اس موقع پر ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان کے نوجوان کسی سے کم نہیں، اور یہ کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے جس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی جو اپنے ملک اور علاقے کے لئے کچھ مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ’’نوجوان ہی اس ملک کا اثاثہ اور مستقبل ہیں۔ اگر اسی طرح نوجوانوں کی رہنمائی کی جائے گی تو اس ملک کو خوش حال اور ترقی یافتہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

ملک بھر سے آئے ہوئے افراد نے یوتھ ایوارڈ کی تقریب کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے ایک مثبت تبدیلی کی جانب اہم اقدام بھی قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف پوری دنیا کو امن کا پیغام ملے گا بلکہ لوگوں اور خاص کر نوجوانوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی سامنے آئے گی۔