1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوات میں مستقل فائربندی پر اتفاق کا سرکاری دعویٰ

پاکستانی صوبہ سرحدمیں حکومت نے سوات میں طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ مستقل جنگ بندی پر اتفاق رائے کا اعلان کیا ہے مگر طالبان کمانڈر فضل اللہ کے بقول وہ اپنی یکطرفہ جنگ بندی پر دس روزہ مدت پوری ہونے پر دوبارہ غورکریں گے۔

default

پاکستان میں طویل عرصے سے طالبان عسکریت پسندوں کے مسلح حملوں اور سرکاری دستوں کی کارروائیوں سے متاثرہ وادی سوات میں قیام امن کے لئے پشاور میں طے پانے والی فائر بندی کو ابھی چند روز ہی ہوئے ہیں لیکن منگورہ میں ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے ہفتہ کے روز یہ اعلان کیا کہ سوات میں عسکریت پسندوں اور حکومت کے مابین مستقل فائربندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

طالبان کمانڈر نے تصدیق نہیں کی

مالاکنڈ کے کمشنر سید محمد جاوید نے سوات میں سرکردہ شخصیات کے اجلاس میں شرکت کے بعد منگورہ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس مستقل جنگ بندی پر مقامی طالبان کے رہنما مولانا صوفی محمد بھی آمادہ ہیں۔

خبرایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق مالا کنڈ کے کمشنر کے اعلان کے بعد عمومی توقع یہ تھی کہ مقامی طالبان کے ایک اور کمانڈر مولانا فضل اللہ بھی عنقریب ہی اس فائر بندی کا علاقے میں کام کرنے والے غیر قانونی FM ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے اعلان کردیں گے۔ تاہم ہفتہ کی رات اس بارے میں مولانا فضل اللہ نے انہی ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے یہ مئوقف اختیار کیا کہ انہوں نے سوات میں اپنی طرف سے عبوری طور پر دس روزہ فائر بندی کا اعلان کررکھا ہے اور اس فائر بندی کے حوالے سے کسی بھی نئے فیصلے کے لئے غور اگلے ہفتہ یہ مدت پوری ہونے پر کیا جائے گا۔

پشاور میں صوبائی حکومت اور کالعدم گروپ تنظیم نفاذِ شریعتِ محمدی کے مابین عارضی جنگ بندی کے چند روز قبل طے پانے والے معاہدے کی رو سے سوات میں طالبان عسکریت پسندوں کو دس روز کے اندر اندر اپنے ہتھیار پھینکنا تھے لیکن یہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ہفتہ کے روز حکومت اور طالبان کے مابین مستقل جنگ بندی پر اتفاق رائے سے متعلق مالا کنڈ ڈویژن کے کمشنر کا اچانک اعلان سامنے آ گیا۔

نقل مکانی کرنے والوں سے واپسی کی اپیل

مالاکنڈ کے کمشنر سید محمد جاوید نے منگورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنگ کے باعث سوات سے نقل مکانی کرجانے والے تمام شہریوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں اور یہ کہ حکومت ان کی بحالی کے لئے خصوصی اقدامات کرے گی۔

ادھرصوبہ سرحد کے جنوبی شہر لکی مروت میں ہفتہ ہی کے روز ایک کاربم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئےجبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعہ کے روز ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد مزید اضافے ےک ساتھ 37 ہوگئی ہے۔

Anhänger der Tehreek-e-Insaf Bewegung in Pakistan gegen Gewalt

سوات میں امن معاہدے کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے

حکام کا کہنا ہے کہ لکی مروت کے علاقے برام خیل میں دھما کے سے تباہ ہونے والی کار میں خودکش حملہ آور سوار تھے جو کسی اور ٹارگٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تاہم اس ٹارگٹ تک پہنچنے سے قبل ہی گاڑی دھماکے سے تباہ ہوگئی اور اس میں سوار دونوں عسکریت پسند مارے گئے۔

دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعہ کے روز ہونے والے خودکش حملے میں مرنے والوں کی تعداد ہفتہ کے روز مزید اضافے کے بعد 37 ہو گئی جبکہ 27 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ بمول شاہ میں ادا کی گئی۔ مرنے والوں کے ورثاء نے حکومتی سیکیورٹی انتظامات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فوج کی نگرانی میں جنازے اٹھائے۔

ڈیرہ میں سیکورٹی کے انتظامات پر علاقہ کے منتخب نمائندے اورڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فضل کریم کنڈی نے بھی عدم اعتماد کااظہارکیاہے جنہوں نے زخمیوں کی عیادت کی۔ فضل کریم کنڈی نے کہا: ’ہم ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کی جانب سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی فوری تحقیقات کی جائے اور جن لوگوں کی غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہواہے ان کو فورا معطل کیاجائے کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مقامی انتظامیہ کی نااہلی ہے۔ پہلے بھی اسی جگہ پر دھماکہ ہواتھا اوراسی جگہ پر پھر دھماکہ ہوا لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک حساس علاقہ ہے پولیس نے مناسب سیکورٹی انتظامات نہیں کیے جس کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسے افسران کوفوری طور پر معطل کیا جائے۔‘

Pakistan US Angriff im Grenzgebiet

تنازعے کا شکار عموماً عام افراد بنتے ہیں


ڈیرہ اسماعیل خان میں بدستور کشیدگی ہے اور ہفتہ کے دن دوسرے روز بھی کرفیو نافذ رہا لیکن اس کے باوجود گھاس منڈی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

سرحدکے ضلع سوات میں امن کی جانب پیش رفت کے بعد جنوبی اضلاع میں تیزی سے حالات خراب ہورہے ہیں۔ ضلع کرک میں کنذابلند ین کے مقام پر ڈیرہ اسماعیل خان کوجانے والی گیس پائپ لائن کو نامعلوم افرادنے دھما کے سے اڑادیا۔ گیس پائپ لائن میں آگ لگنے کے بعد علاقے کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جبکہ خیبرایجنسی کے علاقہ سلطان خیل کے قریب افغانستان میں اتحادی افواج کے لئے سامان لے جانے والے ایک کنٹینرٹرک پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیاگیا۔ حملے میں ٹرک ڈرائیور ہلاک جبکہ دوافراد زخمی ہوگئے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لئے اشیائے ضرورت کی 75 فیصد سپلائی خیبرایجنسی کے راستے ہوتی ہے تاہم گزشتہ کافی عرصے سے ان ٹرکوں پرعسکریت پسندوں کے مسلسل حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔