1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوات میں فوج کا قیام طول اختیار کرتا ہوا

سرسبز جنگلات، ٹھاٹھے مارتے دریا اور خوشگوار فضا کی حامل وادیء سوات میں پاکستانی فوج کے قیام میں معمول سے قدرے زیادہ طوالت کا امکان ہے۔

default

مقامی طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے قریب تیس ہزار اہلکاروں نے 2009ء کے موسم گرما میں اس وادی کا رخ کیا تھا۔ 2007ء سے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھنے والے طالبان اپنے لیڈر مولانا فضل اللہ کے ہمراہ وادی سے فرار ہوچکے ہیں تاہم فوج نے اب تک یہاں کا مکمل انتظام سویلین انتظامیہ کے حوالے نہیں کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق بعض شہریوں کو وادی میں فوج کی موجودگی پسند نہیں جبکہ کچھ اسے سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ سوات میں اب بھی قریب 25 ہزار فوجی موجود ہیں۔ سوات کے ایک شہری 24 سالہ افتخار علی کے بقول، ’’ فوج صورتحال کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ یہاں کے خوبصورت قدرتی نظارے اور صاف ہوا کسی بھی عام فوجی چھاونی سے بہتر ہے۔’’ سوات میں کپڑے کا کاروبار کرنے والے ایک دوسرے شہری محمد اقبال کا البتہ کہنا ہے کہ فوج نے علاقے میں تعمیر و ترقی کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ مینگورہ کے 30 سالہ سردار علی البتہ فوج کے آمرانہ رویے اور طرز عمل سے نالاں ہیں۔

NO FLASH Taliban in Pakistan

طالبان عسکریت پسند اب بھی سوات سے ملحقہ ضلع دیر میں سرگرم ہیں

پاکستان کے بڑے شہروں سے سیلانی طویل عرصے بعد سوات آنے لگے ہیں۔ اس بار البتہ ماضی کے مقابلے میں انہیں جگہ جگہ فوجی چوکیاں اور گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں جو یہاں کے سنگین ماضیء قریب کی یادگار ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں اب بھی عسکریت پسندوں کی واپسی کا امکان موجود ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ فضل اللہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملحقہ ضلع دیر میں یا پھر افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ یا نورستان میں چھپے بیٹھے ہیں۔

سوات میں فوج کے علاقائی کمانڈر جنرل جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس 80 فیصد چیک پوسٹیں یا تو ختم کردی گئیں یا پھر پولیس کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ فوج سوات میں تین کینٹونمنٹس بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس مناسبت سے یہاں فوج کے طویل قیام کی خبروں کو تقویت ملتی ہے۔ جنرل جاوید اقبال کا البتہ دعویٰ ہے کہ تمام انتظام سویلین حکومت کے حوالے کرنے کے لیے چند ماہ درکار ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی 64 سالہ تاریخ میں نصف سے زائد عرصے تک فوج اقتدار پر قابض رہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM