1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوات میں طالبان کی کارروائیاں

تمام تر دعووں کے باوجود سرحد حکومت ضلع سوات میں عمل داری قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سوات میں مصروف عمل طالبان کی سرگرمیوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

default

پاکستانی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں طالبان کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے

تحصیل کبل اورمٹہ میں حکومتی عمل داری ختم ہوچکی ہے ان علاقوں میں طالبان نے لوگوں کے گھروں سے سٹلائٹ ڈش انٹینا اتارنا شروع کر وا دئیے ہیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک 200 سے زیادہ گھروں سے ڈش ریسوراور انٹینا اتارے جا چکے ہیں۔ سوات کے عوام اس اقدام کے خلاف احتجاج بھی نہیں کرسکتے دوسری جانب کرفیو کے باوجود طالبان نے مینگورہ سمیت کئی دیگر علاقوں میں کاروائیاں کرتے ہوئے مزید چھ سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا ہے جس سے تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد 172 ہوگئی ہے۔ عسکریت پسند سوات کے تحصیل کبل اور مٹہ میں کاروائیاں کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اوردوسرے سرکاری اہلکاروں نے کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن کے اہم تجارتی مرکز بٹ خیلہ میں طالبان کی ہدایت پر ڈاکٹروں نے اپنی فیس کم کردی ہے اور اپنے کلینکس کے سامنے باقاعدہ بورڈ آویزاں کیے ہیں۔

Keine Chance für afghanische Flüchtlinge

طالبان نے طالبات کی پڑھائی پر پابندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد کئی سکولوں کو تباہ کر دیا گیا

لیکن اس کے باوجود صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ سوات میں حکومتی ادارے کام کررہے ہیں اوریکم مارچ سے سکول کھول دئیے جائیں گے اور طلباء وطالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سوات کے عوام حکومت کی طرف سے جاری آپریشن پر بھی عدم اطمینان کااظہارکرتے ہیں اور اس کا اظہار منتخب ارکان اسمبلی نے بھی کیا ہے لیکن میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ ضرور ت پڑنے پر سوات میں مزید فوج بھیجنے پر سوچا جا سکتا ہے۔ میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے سرحد حکومت کو بھی پانچ دن کی ڈیڈ لائن دی تھا لیکن حکومت آج بھی قائم ہے۔ عسکریت پسند حکومت پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

Pakistanische Stammesangehörige gegen Taliban

مقامی قبائل کا طالبان کے خلاف گشت کا ایک منظر

حکومت عسکریت پسندوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگی اور تمام تعلیمی ادارے یکم مارچ سے کھولے جائیں ان کا کہنا ہے حکومت آج بھی امن کیلئے مذاکرات اوربات چیت کے لئے تیار ہیں۔ چند آئینی مشکلات کی وجہ سے مالاکنڈ میں شرعی نظام عدل وانصاف کے نفاذ میں تاخیر ہوئی ہے لیکن بہت جلد وہاں عوام کی مرضی کے مطابق شرعی نظام رائج ہوگا ۔

مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں سوات کے طالبان نےملحقہ اضلاع میں اپنی سرگرمیاں بڑھا نا شروع کر دی ہیں ان اضلاع میں لوئر اور اپردیر، بونیر، شانگلہ اورملاکنڈ ڈویژن کا بڑا تجارتی مرکز بٹ خیلہ شامل ہیں۔