1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوات میں خودکش حملہ، دو افراد ہلاک

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ کے ایک مرکزی بازار میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں دو شہری ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے۔

default

ہفتے کے روز خودکش بم دھماکے کا یہ واقعہ مینگورہ شہر کے سہراب خان نامی بازار میں پیش آیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئیں تھیں، جن میں کہا جا رہا تھا کہ سوات طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے ساتھی علاقے میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق اس مشکوک شخص کو بازار میں داخل ہونے پر پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا تھا، جس کے بعد اس نے دھماکہ کر دیا۔ تقریباً ایک برس قبل ایک فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان عسکریت پسندوں سے خالی کرائے گئے اس علاقے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات سے ان افواہوں کو تقویت مل رہی ہے کہ عسکریت پسند ایک مرتبہ پھر وادیء سوات میں واپس لوٹ رہے ہیں۔

Mingora Pakistan Swattal

آپریشن کے بعد گزشتہ برس ہی فوج نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول سنبھالا تھا

پاکستانی فوج کے مطابق ایک برس قبل اس علاقے میں کئے گئے آپریشن سے القاعدہ سے گہرے روابط کے حامل ان مقامی طالبان کو سخت دھچکا پہنچا تھا۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے سوات شہر میں ایک مرتبہ پھر پے در پے پُرتشدد واقعات کے بعد علاقے میں طالبان کی موجودگی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

سوات میں پاکستان فوج کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں ایک مبینہ دہشت گرد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس شخص کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ہفتے کے روز خودکش حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز نے گھیر لیا تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لئے اس نے دھماکہ کر دیا۔ پاکستانی فوج نے اس واقعے کے بعد مینگورہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

عسکریت پسندوں نے گزشتہ کئی روز کے دوران وادیء سوات میں متعدد قبائلی رہنماؤں کو قتل کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق طالبان مقامی رہنماؤں کو ہلاک کر کے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے تمام رہنما وہی تھے، جنہوں نے سوات میں فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی۔

سوات انتظامیہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں اور پولیس فورس میں اضافے کے حوالے سے کام کر رہی ہے تاکہ طالبان دوبارہ ضلع میں اثرورسوخ حاصل نہ کر پائیں۔ مقامی افراد کو خدشات ہیں کہ طالبان ایک مرتبہ پھر علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور علاقے سے فوج کی واپسی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر یہاں اپنی قوت میں اضافہ کریں گے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM