1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوات: مشتبہ طالبان کے خاندانوں کی بےدخلی

پاکستان کی سرسبز و شاداب اور حسین وادی سوات میں گزشتہ سال تک دندناتے پھرتے انتہاپسند طالبان کے خاندانوں کو بھی مقامی جرگے کے فیصلے کے بعد علاقے سے بےدخل کر دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب پناہ گزین بن گئے ہیں۔

default

سوات طالبان کا ایک کمانڈر: فائل فوٹو

وادی سوات کے مقامی سرداروں اور بڑے خانوں پر مشتمل افراد کے جرگے کے فیصلے کے بعد مشتبہ طالبان کے خاندان بےسروسامانی کا سامنا کرنے لگے ہیں۔ ان کے اپنے گھر اور محلے ان کے لئے اجنبی ہو گئے۔ دو درجن سے زائد خاندانوں کو جرگے کے فیصلے کے تحت فوری طور پر اپنے اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد ان خاندانوں کے مطلوب اور مفرور افراد کو معاشرتی طور پر مجبور کرنا تھا کہ وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کو چھوڑتے ہوئے حکومت کے سامنے پیش ہو جائیں۔

وادی سوات کے حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ گزشتہ سال وہاں فوج کے ہاتھوں پسپا ہونے کے بعد بچے کھچے طالبان ایک بار پھر اکٹھا ہونے کی کوششوں میں ہیں۔ یہ مطلوب اور مفرو طالبان چھپ

Pakistan Mädchen im Bus im Swat Tal

سوات سے نکلتے مہاجرین کے قافلے کی خاتون اپنے گھر کو دیکھتے ہوئے: فائل فوٹو

چھپا کر راتوں کو اپنے اپنے خاندانوں کے پاس پناہ لیتے ہیں اور دن کی روشنی میں وہ دوبارہ پہاڑیوں میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ اس دوران موقع ملنے پر وہ دہشت گردانہ کارروائیوں سے بھی نہیں چوکتے۔ ان کارروائیوں کی ہدایت ابھی تک ان کو چھوٹے درجے کے طالبان لیڈر دے رہے ہیں۔

پچیس خاندانوں کے مطلوب افراد کو وادی کے بڑے اور نمایاں افراد نے بیس مئی تک کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر مقامی انتظامیہ کے سامنے پیش ہو جائیں۔ اس ڈیڈ لائن کا مناسب انداز میں احترام نہ کئے جانے کے بعد، اگلے روز یعنی 21 مئی کو منعقد ہونے والے جرگے میں مقامی سرداروں نے اپنا فیصلہ عام کر دیا، جس سے پچیس کے قریب خاندان متاثر ہوئے۔ جرگے کے افراد کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ یہ خاندان ابھی تک اپنے مفرور لیکن انتہاپسند ارکان کو وقتاً فوقتاً مدد فرہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، جس سے وادی کا سکون اور امن عامہ ایک بار پھر متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

مشتبہ طالبان کے ایسے 130 رشتہ داروں کو فوج کی نگرانی میں قائم کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس منتقلی کے عمل میں متاثرہ خاندانوں کو فوج کی جانب سے ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔ یہ تمام افراد مالاکنڈ کی پہاڑیوں میں قدرے ویران علاقے میں قائم پالائی کیمپ پہنچا دئے گئے ہیں۔ اس کیمپ کا انتظام پاکستانی فوج کے پاس ہے۔ کیمپ میں رکھے گئے افراد کا وہا‌ں سے باہر جانا فوج کی باقاعدہ اجازت کے بغیر ممکن

Bildergalerie Ursachen von Armut Krieg Pakistan Zeltstadt für Flüchtlinge in Lahore Flash-Galerie

سوات میں فوجی اپریشن کے دوران پناہ گزینوں کی عارضی بستی: فائل فوٹو

نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کو ان افراد تک رسائی بھی بہت مشکل سے ملتی ہے۔ تمام پناہ گزینوں کے لئے خوراک اور رہائش کا بندوبست فوج ہی کر رہی ہے۔ پالائی کیمپ میں وہاں کے رہائشیوں کے علاج معالجے کے لئے ایک ڈاکٹر کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے افسر جاوید مروت کے مطابق یہ افراد حفاظتی تحویل میں ہیں کیونکہ انہیں طالبان مخالف عناصر کی وجہ سے جان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جرگے کے فیصلے کے بعد متاثرہ افراد کی بےدخلی پر شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کسی تبصرے سے انکار کردیا، کیونکہ مقامی سماجی اور سیاسی حلقے جرگے کے اس فیصلے کی قانونی حیثیت سے متعلق حکومت کی طرف سے وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM