1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوئیٹ مارٹیلی ہیٹی کے صدر بنیں گے

زلزلے سے تباہ حال کیریبیئن ریاست ہیٹی کے صدارتی انتخابات میں نووارد سیاست دان و سابق انٹرٹینر مائیکل مارٹیلی کی فتح کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ہیٹی کے عوام انہیں سوئیٹ مارٹی بلاتے ہیں۔

default

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیر حتمی نتائج کے مطابق پچاس سالہ مارٹیلی کو 68 فیصد ووٹ ملے۔ ان کے مقابلے پر سابقہ خاتون اول 32 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہیں۔ طویل عرصے تک تناؤ میں گھرے آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت پورٹ او پرانس میں جشن کا سماں ہے۔ عوام کی اکثریت کو مارٹیلی سے بہتر مستقبل کی امید ہے۔ ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’سوئیٹ مارٹی‘ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا، ’ بہت اچھے ہیٹیئنز، ہم مل کر سب کچھ کرسکتے ہیں‘۔

آئیوری کوسٹ کا شمار خطے کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ ہیٹی کی تاریخ میں پہلی بار صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقدکیا گیا تھا۔ نومبر میں منعقدہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں بیس مارچ کو ہونے والا دوسرا مرحلہ خاصہ پر امن رہا۔

’سوئیٹ مارٹی‘ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران عوام سے ملک گیر سطح پر خوشگوار تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔ ہیٹی کے سیاسی امور پر نظر رکھنے والے، یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر رابرٹ فیتون کاکہنا ہے کہ مارٹیلی کی جیت سے ثابت ہوا کہ وہاں کے لوگوں نے اس سیاسی طبقے کو مسترد کردیا ہے، جو حکومت میں بھی ہے اور اپوزیشن میں بھی،’ مارٹیلی نے لوگوں کے مزاج کو سمجھا اور اپنے ’بیڈ بوائے‘ کے تاثر کو استعمال کرتے ہوئے خودکو تبدیلی کی علامت ثابت کیا‘۔

Haiti Präsidentschaftswahlen Michel Martelly

سوئیٹ مارٹی کے حامیوں کا جلسہ

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد مارٹیلی کو زلزلہ متاثرہ ہیٹی میں تعمیر نو کے بہت بڑے کام کا ذمہ اٹھانا ہوگا۔ گزشتہ سال کے زلزلے میں لگ بھگ تین لاکھ اموات ہوئیں جبکہ یہ ریاست انتہائی غربت کی حدیں چھونے لگی۔ امریکی حکومت سمیت بین الاقوامی برادری اربوں ڈالر کی امداد فراہم کرنے کے بعد ہیٹی میں مستحکم حکومت کے قیام کی خواہش ظاہر کر رہی ہے۔

امریکہ نے ہیٹی کے صدارتی انتخابات کو اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ہیٹی میں امریکی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیٹی کے عوام اب اپنے وطن کی تعمیر نو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ واشنگٹن نے ہیٹی کے تمام سیاست دانوں سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اپنے اختلافات جمہوری انداز میں حل کریں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM