1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سوئٹزر لینڈ میں دس تامل باغی گرفتار

یورپی ملک سوئٹزرلینڈ میں پولیس نے مختلف چھاپوں کے دوران سری لنکا کی سابقہ مسلح تحریک تامل ٹائیگرز کے متعدد باغیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان پر مختلف جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

default

جنیوا میں دفتر استغاثہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کم از کم دس تامل باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا تعلق یورپ میں ڈھکے چھپے انداز میں فعال سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کی تنظیم سے ہے۔ اس تنظیم کو اس کے اپنے وطن سری لنکا میں سن 2009 میں صدر راجا پاکشے کی حکومت نے کلی طور پر شکست دے کر ختم کر دیا تھا۔ لیکن سری لنکا سے بھاگے ہوئے اس گوریلا تنظیم کے بہت سے کارکن بدستور اپنی سرگرمیاں مختلف انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دفتر استغاثہ کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد جرائم کے ایک نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ تامل

Sarath Fonseka

سری لنکن فوج کے سابق کمانڈر فونیسکا

ٹائیگرز کے حراست میں لیے گئے افراد نے بے شمار تامل لوگوں سے بڑی رقوم چندے کے نام پر جمع کر کے کاروبار میں لگا رکھی تھیں اور ان سے ہونے والی آمدنی کے ذریعے اس مسلح تنظیم کو جنگی ساز و سامان مہیا کیا جاتا تھا۔

سوئٹزر لینڈ کے اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے دس تامل باشندے سابقہ تامل ٹائیگرز کے اراکین ہیں اور ان کو حراست میں لینے کے لیے پولیس کو مختلف رہائشی اپارٹمنٹس پر چھاپے مارنے پڑے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ایک جرائم پیشہ گروپ میں شامل تھے اور وہ منی لانڈرنگ بھی کرتے تھے۔

سوئٹزرلینڈ میں جرائم کی تفتیش کرنے والی وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے تقریباً پورے ملک میں ایک ساتھ ان افراد کی حراست کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ کل 23 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ یہ 23 ٹھکانے سوئٹزر لینڈ کے دس مختلف کینٹنز یا انتظامی علاقوں میں قائم کیے گئے تھے۔ سوئس خفیہ اداروں کو ایک فوجداری تفتیش کے دوران تامل ٹائیگرز کے ان اراکین کی سرگرمیوں کا پتہ چلا تھا۔

Der Tamilische Rebellenführer Velupillai Prabhakaran im Februar 2009

تامل علییحدگی پسند تحریک کے لیڈر پربھاکرن

سوئس اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کا یہ گروپ سری لنکا میں نابود ہو جانے والی مسلح تنظیم LTTE کے لیے ابھی تک چندہ جمع کرتا تھا اور وہ ایسے عام تامل باشندوں پر غیر قانونی دباؤ ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا، جو سری لنکا میں تامل علاقوں میں خانہ جنگی کے بعد سوئٹزرلینڈ آ کر اب تک وہاں سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ تامل لوگ سودی قرضے لے کر مسلح تنظیم کے افراد کے مطالبات پورے کرتے تھے۔ ان باشندوں کے ڈرائے دھمکائے جانے کے علاوہ ان پر جبر و تشدد سے متعلق کئی شہادتیں بھی دستیاب ہو گئی ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد نے لاکھوں سوئس فرانک کی غیر قانونی ترسیل بھی کی تھی۔ سوئس حکومت نے دیگر تامل باشندوں کے لیے خصوصی ٹیلی فون سروس کا انتظام بھی کر دیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ تامل باشندے اپنا نام مخفی رکھے جانے کی شرط پر اپنی شکایات ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس