1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

سوئٹزرلینڈ میں نامور فلمی شخصیت چارلی چپلن کے نام پر میوزیم

پندرہ اپریل کو عالمی شہرت یافتہ فلمی شخصیت چارلی چپلن کا 127 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ چپلن نے اپنی زندگی کے پچیس سال سوئٹزرلینڈ کے جس بنگلے میں بسر کیے، اب اُسے ایک میوزیم ’چارلی کی دنیا‘ کی شکل دے دی گئی ہے۔

Eröffnung des Charlie Chaplin Museums

چارلی چپلن نے سوئٹزرلینڈ میں جس رہائش گاہ میں ربع صدی کا وقت گزارا، اُسے اب ایک میوزیم کی شکل دے دی گئی ہے

کینیڈا کے ایو دوراں فنونِ لطیفہ کی سرپرستی کرنے والی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ سن 2000ء میں اُنہوں نے سوئٹزرلینڈ میں چارلی چپلن کی دیہی رہائش گاہ کو ایک عجائب گھر میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل میں پندرہ برس لگ گئے۔ اس تاخیر کی ایک وجہ قانونی پیچیدگیاں بھی تھیں۔ سوئٹزرلینڈ کے حکام کو خدشہ تھا کہ میوزیم بننے سے کہیں سوئٹزرلینڈ کے حسین قدرتی مناظر میں گھری یہ جگہ ایک طرح کا ’ڈزنی لینڈ‘ نہ بن جائے۔

اب جب کہ اس میوزیم کا افتتاح ہونے جا رہا ہے، دوراں بجا طور پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے کسی بھی دوسرے میوزیم کو بیرونی دنیا سے اتنے زیادہ لوگ دیکھنے کے لیے نہیں آئیں گے، جتنے کہ چارلی چپلن میوزیم کو دیکھنے کے لیے۔ اس نئے عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل ژاں پیئر پِشوں کے خیال میں سالانہ کوئی تین لاکھ شائقین اس میوزیم کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔

Eröffnung des Charlie Chaplin Museums

میوزیم کی انتظامیہ نے بہت عرق ریزی سے جائزہ لینے کے بعد اکیاسی فلمیں اور پندرہ ہزار تصاویر منتخب کی ہیں

چارلی چپلن نے سوئٹزرلینڈ میں بس جانے کا فیصلہ 1952ء میں اُس وقت کیا تھا، جب وہ اپنی فلم ’لائم لائٹ‘ کی نمائش کے سلسلے میں یورپ کے دورے پر تھے اور سیاسی وجوہات کی بناء پر اُن کے امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تبھی اُنہوں نے پہاڑوں اور ایک جھیل کے درمیان گھرے ہوئے اس بنگلے کو اپنی رہائش کے لیے چُنا تھا، جس کے ساتھ چَودہ ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ایک قدرتی پارک بھی ہے۔ تب چپلن نے اپنے نئے وطن کے بارے میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:’’یہ وسعت روح کو سکون دیتی ہے، افق کو وسیع کرتی ہے اور فکر کو تازہ دم کرتی ہے۔‘‘

میوزیم کی انتظامیہ کے خیال میں اس عجائب گھر کی سیر کو آنے والے شائقین کو بھی وہی احساس ہونا چاہیے، جو چپلن کو یہاں رہ کر ہوا کرتا تھا۔ اس میوزیم کا ڈیزائن فرانسیسی کمپنی ’گرےوِن‘ نے تخلیق کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ شائقین کواس میوزیم کی شکل میں ایک ایسی دنیا کی سیر کا موقع ملے گا، جو طرح طرح کے سرابوں اور خوابوں سے عبارت ہو گی۔ لوگ چپلن کو ایک فنکار ہی نہیں بلکہ انسان کی حیثیت سے بھی قریبی طور پر جان سکیں گے، ایک ایسا انسان، جس پر خواتین مر مٹتی تھیں، جو قدرتی مناظر سے پیار کرتا تھا اور جس کے فارغ وقت کے مشاغل میں مچھلیاں پکڑنا بھی شامل تھا۔

Schweiz Chaplin Museum in Corsier-sur-Vevey Michael Chaplin

چارلی چپلن کے بیٹے مائیکل چپلن سات مئی 2014ء کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے والد کی رہائش گاہ پر ’چپلن کی دنیا‘ نامی میوزیم کے بارے میں تفصیلات بتا رہے ہیں

چارلی چپلن کی پیدائش 1889ء میں ایک اداکار جوڑے کے ہاں ہوئی۔ والد جلد ہی چل بسا جبکہ ماں علاج کے لیے اکثر نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں رہی۔ ایسے میں چپلن ایک یتیم خانے میں پلا بڑھا۔ اس موضوع کو اُس نے اپنی مشہور فلم ’دی کِڈ‘ میں پیش کیا۔ وہ خاموش فلموں کے دور کا مقبول ترین فنکار تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد چپلن ہالی وُڈ میں بہت زیادہ مصروف ہو گیا، جہاں اُس کی بہت سی پروڈکشن کمپنیاں تھیں۔ اُس دور کی سیاسی فضا تناؤ کا شکار تھی اور امریکی سینیٹر جوزف میکارتھی نے سرد جنگ کے زمانے میں اپنی کمیونزم مخالف تحریک کے دوران ایسے تمام اداکاروں اور فلم سازوں کے خلاف شدید بیان بازی شروع کر رکھی تھی، جو مبینہ طور پر بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے۔ اس بیان بازی کے اثرات چپلن پر بھی ہوئے اور 1952ء میں اُنہیں یورپ کے دورے سے واپس امریکا جانے کی اجازت ہی نہ دی گئی۔ کہیں 1972ء میں اُن پر سے امریکا کے سفر کی پابندی ختم کی گئی۔

Eröffnung des Charlie Chaplin Museums

اس عجائب گھر میں چپلن کی بہت سی ذاتی اَشیاء بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو چپلن کی اولاد نے اس میوزیم کے لیے دی ہیں

چارلی چپلن میوزیم میں ایک سینما ہال بھی بنایا گیا ہے، جہاں ایک سو پچاس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ میوزیم کی انتظامیہ نے بہت عرق ریزی سے جائزہ لینے کے بعد اکیاسی فلمیں اور پندرہ ہزار تصاویر منتخب کی ہیں۔ اس عجائب گھر میں چپلن کی بہت سی ذاتی اَشیاء بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جو چپلن کی اولاد نے اس میوزیم کے لیے دی ہیں۔ دسمبر 1977ء میں اٹھاسی برس کی عمر میں چپلن کا انتقال بھی سوئٹزرلینڈ کے اسی بنگلے میں ہوا تھا، جہاں اب اُن سے موسوم عجائب گھر کے دروازے شائقین کے لیے کھولے جا رہے ہیں۔

DW.COM